BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ
سارکوزی اور رویال
نیکولاس سارکوزی اور سیگولین رویال
فرانس کے صدارتی انتخابات کے امیدوار اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ووٹروں کی حمایت جیتنے کے لیے حتمی کوششوں میں مصروف ہیں۔

صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اتوار 22 اپریل کو ہے اور ووٹنگ کا آخری مرحلہ 6 مئی کو۔

رائے شماری کے جائزوں کے مطابق اتوار کے انتخاب میں صرف چار امیدوار ایسے ہیں جن کا آخری مرحلے میں پہنچنے کا امکان ہے۔

سی ایس اے کے جائزے کے مطابق دائیں بازو کے اعتدال پسند امیدوار نیکولاس سارکوزی ستائیس فیصد حمایت کے ساتھ اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں، جبکہ چھبیس فیصد ووٹ کے ساتھ ان کے بعد سوشلٹ امیدوار سیگولین رویال ہیں۔

تاہم ان اندازوں کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں امیدواروں کے خلاف احتجاجی ووٹ ڈالے جانے کا قوی امکان ہے۔

جمعہ انتخابی مہم کا آخری روز ہے اور تمام امیدواروں نے اپنے آخری جلسے جمعرات کی شام کو منعقد کیے۔ جمعہ کو رات بارہ بجے کے بعد سے انتخابی بییانات اور انتخابات سے متعلق رائے شماری کے جائزوں کا بلیک آؤٹ کیا جائے گا۔

جمعرات کو مسٹر سارکوزی نے مارسئی کے شہر میں بارہ ہزار افراد کے ایک جلسے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’فرانسیسی عوام کو متحد کرنے کے لیے آپ میں ان کے لیے بات کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے، حکمرانی کرنے کے لیے محبت کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔‘ ماہرین کا خیال ہے کہ مسٹر سارکوزی اس قسم کے خیالات کا اظہار اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ان کا وہ سخت گیر امیج بدلا جا سکے جو کہ ان کے وزیر داخلہ ہوتے ہوئے بنا گیا تھا۔

ان کے اس جسلے میں فٹ بال کے کھلاڑی بازیل بولی کے علاوہ کئی سابق وزراء اور وزراء اعظم ان کے ساتھ سٹیج پر پیش ہوئے۔

جمعہ کو مسٹر سارکوزی ملک کے جنوبی علاقے کمارگ میں کاشت کاروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ادھر ان کی حریف مِز رویال نے اپنی مہم کا آخری جلسہ جنوب مغربی شہر تولوز میں کیا۔ اس جلسے میں تقریباً پندرہ ہزار افراد تھے اور سپین کے سوشلسٹ وزیر اعظم خوزے لویز زپاتیرو بھی مِز رویال کے ساتھ پیش ہوئے۔

 انتہائی دائیں بازو کے امیدوار ژان مری لے پین نے فرانسیسی روئیرا کے شہر نِیس میں جلسہ کیا جہاں پر ان کی جماعت کو خاصی حمایت حاصل ہے۔ مسٹر لے پین نے سنہ دو ہزار دو کے صدارتی انتخابات میں غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی اور سوشلٹس امیدوار سے آگے نکل کر ختمی مرحلے میں پہنچ گئے تھے جہاں پر ان کو ژاک شیراک نے ہرایا تھا۔

جلسے میں راک موسیقی بجائی گئی اور مِز رویال نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ فرانس کو ایک زیادہ مضبوط اور معتدل ملک بنانا چاہتی ہیں جس میں کسی سے اس کے نام، نسل یا پتے کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس کبھی امریکی صدر جارج بش کے سامنے نہیں جھکےگا۔ اس پر لوگوں نے بہت زور و شور سے تالیاں بجائیں۔

مِز رویال نے مہم کے آخری روز پواتئیرز کے شہر میں ایک پکنک پر گزاری۔

ادھر انتہائی دائیں بازو کے امیدوار ژان مری لے پین نے فرانسیسی روئیرا کے شہر نِیس میں جلسہ کیا جہاں پر ان کی جماعت کو خاصی حمایت حاصل ہے۔ مسٹر لے پین نے سنہ دو ہزار دو کے صدارتی انتخابات میں غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی اور سوشلٹس امیدوار سے آگے نکل کر ختمی مرحلے میں پہنچ گئے تھے جہاں پر ان کو ژاک شیراک نے ہرایا تھا۔

چوتھے اہم صدارتی امیدوار اعتدال پسند جماعت یونین فار فرینچ ڈیموکریسی (یو ڈی ایف) کے فرانسواز بیئرو ہیں۔

اس مرتبہ انتخابات میں دس لاکھ سے زیادہ نئے ووٹروں کا اندارج ہوا ہے جو کہ پچیس برسوں میں فرانس میں ایسا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ ان نئے ووٹروں میں بیشتر جوان ہیں اور بہت سے فرانس کے باہر رہائش پذیر ہیں جس سے ان کے ووٹ دینہے کے ارادے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

فرانس کے ان صدارتی انتخابات میں الیکٹرونک ووٹ ڈالنے کی مشینوں کا پہلی مرتبہ استعمال کیا جائے گا۔اس پر سوشلسٹ جماعت کے علاوہ حزب مخالف کی کئی اور جماعتوں نے تنقیید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے خطرناک حد تک غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ تقریبا" پندرہ لاکھ ووٹر ان مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے۔

مِز رویال فرانس کی پہلی خاتون صدر بننا چاہتی ہیں لیکن یقین کے ساتھ بائیں بازو کے ووٹروں کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ مز رویال کے کئی ایسے حریف ہیں ہے جن کی سیاست میں بائیں بازو کی سوچ زیادہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے ان کی ووٹوں میں کمی ہو۔

سیگولین رویال رویال میدان میں
سوشلسٹ خاتون فرانس کی صدارتی امیدوار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد