مہمان خصوصی کی خاتون دوستیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں آئندہ چھبیس جنوری کو یوم جمہوریہ کے جشن کے لیے فرانس کے صدر نِکولا سرکوزی مہمان خصوصی کے طور پر ہندوستان آ رہے ہیں۔ لیکن اس طرح کے اشارے ملے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ اپنی 39 سالہ ’گرل فرینڈ‘ اور سابق ماڈل کارلہ برونی کو بھی لا رہے ہیں۔ ہندوستان کے ’پروٹوکال‘ اہلکار اس بات سے کافی پریشان ہیں کہ انہیں ’فرسٹ لیڈی‘ کا درجہ دیا جائے یا پھر وفد کا ایک رکن مانا جائے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا انہیں وہی سہولیات فراہم کی جائيں جو کسی بھی دیگر مہمان صدر کی اہلیہ کو دی جاتیں ہیں؟ نئی دہلی میں وزرات خارجہ کے دفتر کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی روز تک غور کرنے کے بعد’ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ فرانسیسیوں کو طے کرنا ہوگا کہ کارلہ بورنی کو فرسٹ لیڈی کا درجہ دیا جائے یا نہیں۔‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر پشپیش پنت کا کہنا ہے: ’ہمارے اپنے ملک کے بڑے رہنماؤں کے ایسی دوستی کے رشتے رہے ہیں۔ کوئی کسی کی منہ بولی بہن ہے تو کوئی بہو یا پھر بھابھی۔اگر وہ اپنی خاتون دوست کو لے کر آ رہے ہیں تو ’اتیتھی دیو بھوہ‘ یعنی مہمان بھگوان جیسا ہوتا ہے، کہنے والے ملک کو ان کی مہمان نوازی کرنی چاہیے۔‘
ستر کی دہائی میں ایک افریقی ملک کے منتخب صدر حلف اٹھانے سے قبل بھارت کے دورے پر آئے تھے اور اپنے ساتھ اپنی خاتون دوست کو لائے تھے۔ اس وقت وزرات خارجہ میں پروٹوکال کے چیف ایس جے ایس چٹوال اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہوئے بتاتے ہیں: ’انہیں راشٹرپتی بھون پہنچا کر جب میں گھر پہنچا تو ان کا فون آیا۔ کہنے لگے کہ آپ نے میری پرائیوٹ سکریٹری کو دوسرے ہوٹل میں رکوا دیا مجھے کسی بھی وقت ڈکٹیشن دینا ہوتا ہے۔ میں نے پرنسپل سکریٹری کو یہ بتایا اور پھر انہوں نے وزیر اعظم کو یہ بات بتائی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر وہ بیوی نہیں ہیں تو اس طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت اندرا گاندھی بھارت کی وزیر اعظم تھیں اور دوسرے دن جب کھانے پر لوگوں کے بیھٹنے کے نظام میں چھیڑ چھاڑ کر کے اس خاتون کو افریقہ کے صدر کے نزدیک بٹھا دیا گیا تو محترمہ گاندھی صرف مسکرا دیں۔ اندرا گاندھی نے کہا: ’اب ان لوگوں نے بٹھا دیا ہے، میں کچھ نہیں کہہ رہی، تم بھی کچھ مت کہنا، اب جیسا ہے رہنے دو۔‘ کچھ اسی طرح کا واقعہ ارجنٹینا کے صدر ال فون سن کے ساتھ ہوا تھا۔ گرل فرنڈ کو ساتھ لانے کے علاوہ بھی بعض واقعات موجود ہیں۔ تجزیہ کار اندر ملہوترا اس واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرا بھارت آئے تھے۔’بوگرا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ آئے تھے۔ ان کی سکریٹری بھی آئیں تھیں جو ان کے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں، انہوں نے زور دیا کہ ان کی سکریٹری کو بھی ان کے ساتھ رہنے دیا جائے کسی طرح سے ان کی بیوی کے بغل میں ان کو کمرہ دیا گیا۔‘ اندر ملہوترا مزيد بتاتے ہیں کہ ان کے پاکستان جانے کے دس دن بعد ہی یہ خبر ملی کہ انہوں نے اس خاتون سے شادی کر لی ہے۔
ہندوستان میں غیرشادی شدہ جوڑوں کو کرائے پر گھر ملنا ایک مشکل عمل ہے، بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کی بات سوچی بھی نہيں جا سکتی اور ہم جنس پرستی ابھی بھی غیرقانونی ہے ۔ ایسے میں ہندوستان کی مورل پولیس کے پیمانے پر سرکوزي اور برونی کتنے کھرے اتريں گے؟ تجزیہ کار پشپیش پنت کا کہنا ہے: ’جنسی اخلاقیات اپنی جگہ پر ہے لیکن کیا ہم اپنی اخلاقیات کا پیمانہ کسی ایسے آدمی پر تھوپ سکتے ہیں جو دوسرے سماج اور دوسری تہزیب میں رہ رہا ہے؟‘ انہوں نے مزید کہا: ’سرکوزی صاحب تو ہندوستان کے سماج کے باشندے نہیں ہیں۔ اگر وہ چوڑے سینے کے ساتھ اپنی دوست کو یہاں لیکر آ رہے ہیں اور کچھ ایسا نہیں کر رہے ہیں جو فحش ہو تو اس میں کیا؟ ہمارے ملک میں ویلنٹائن ڈے اور لڑکیوں کے لباس پر بولنے والے چھوٹے ذہن کے لوگوں کی تعداد کافی کم ہے۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کی پاپاراژی فرانس کی ’پہلی جوڑی‘ کا اسی طرح بھارت میں بھی پیچھا کریں گے جس طرح دریائے نیل کے کنارے وہ ان دونوں کے پیچھے سائے کی طرح پڑے ہوئے تھے۔ اور نِکولا سرکوزی شاید ہی اس کا برا مانیں گے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس سرکوزی ڈیل انکوائری کےحامی03 August, 2007 | آس پاس فرانس: سرکوزی کی جماعت جیت گئی18 June, 2007 | آس پاس فرانس کے نئے وزیراعظم تعینات18 May, 2007 | آس پاس سرکوزی کی قیادت، فرانس کا نیا روپ07 May, 2007 | آس پاس فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ20 April, 2007 | آس پاس فرانس: سارکوزی کا نیا نظریہ 03 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||