BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 May, 2007, 07:31 GMT 12:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرکوزی کی قیادت، فرانس کا نیا روپ
نکولس سرکوزی
نکولس سرکوزی کا تعلق کبھی بھی طبقۂ اشرافیہ سے نہیں رہا
اتوار کی رات فرانس کے صدارتی انتخابات میں نکولس سرکوزی کی جیت اور ’آرچ ڈی ٹرائمف‘ کے گرد شانزے لیزے پر صدارتی فتح کی روایتی ریلی کے بعد پیرس میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ’فرانس ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے‘۔

یہی کچھ نومنتخب صدر اور دائیں بازو کے رہنما نکولس سرکوزی نے بھی فتح کے بعد اپنی تقریر میں کہا۔ ان کا کہنا تھا ’میں اس جمہوریہ میں کام کرنا چاہتا ہوں اور کوئی بھی حق فرض ادا کیے بنا نہیں ملتا۔ موقع سب کو ملنا چاہیے مگر یہ موقع انہیں کام کر کے اپنے آپ پر یقین رکھتے ہوئے حاصل کرنا چاہیے‘۔

کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل قریب میں کیا ہوگا لیکن پھر بھی ایک اطمینان پایا جاتا ہے کہ آخرِ کار فیصلہ تو ہوا۔ تاہم لوگ مستقبل کے حوالے سے خدشات بھی رکھتے ہیں کیونکہ نومنتخب صدر نے تبدیلی اور اصلاح کا وعدہ کیا ہے۔

فرانس کے نئے صدر نکولس سرکوزی ایک ایسے فرد ہیں جنہیں اپنی توانائی اور طاقت کی خواہش کے لیے جانا جاتا ہے۔ باون سالہ سرکوزی نے چند برس پہلے کہا تھا کہ وہ ہر وقت کرسی صدارت کے بارے میں سوچتے ہیں ما سوا اس وقت کے جب ہر صبح وہ شیو کر رہے ہوتے ہیں۔

سرکوزی کا تعلق کبھی بھی اشرافیہ سے نہیں رہا۔ وہ ہنگری سے تعلق رکھنے والے ایک تارکِ وطن کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد انہیں لڑکپن میں ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے اور سرکوزی کی متعدد سوانح حیات کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سرکوزی کو سخت محنت اور میرٹ پر اپنے آپ کو منوانے کی عادت پڑی۔

سیگولین رویال اور سرکوزی

سرکوزی نے بائیس سال کی عمر میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور اٹھائیس سال کی عمر میں وہ صدر ژاک شیراک کی جماعت’یو ایم پی‘ کی مدد سے پیرس کے نواحی علاقے نیویل کے میئر منتخب ہوئے۔

آج ان کے مخالف انہیں طاقت کے استعمال میں یقین رکھنے والا ایک ایسا امریکی دانشور(American neo-con) قرار دیتے ہیں جس کے پاس اتفاق سے فرانسیسی پاسپورٹ ہے جبکہ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ واحد شخص ہیں جو فرانس کو اس کی اقتصادی اور سماجی برائیوں سے نجات دلا سکتے ہیں۔

نکولس سرکوزی کے حامی اور مخالفین جو بھی کہیں ایک بات واضح ہے کہ فرانس کے سابق وزیرِ داخلہ جو جرم اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے معاملات پر سخت گیر موقف رکھتے ہیں، فرانسیسیوں کے لیے ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ان کے متنازعہ ہونے کی ایک مثال 2005 میں ان کا ایک بیان بھی ہے جس کے نتیجے میں پیرس کے نواح میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

ان کی شخصیت کے اس رخ کو ان کی مخالف سوشلسٹ امیدوار سیگولین رویال نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران استعمال کیا اور کہا کہ وہ جمہوریت کے لیے ایک خطرہ اور ایک ایسے امیدوار ہیں جن پر بطور صدر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم فرانسیسیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے ملک کو اس وقت اسی قسم کے سخت گیر مؤقف کے حامل رہنما کی ضرورت ہے۔

فرانس کے اخلاقی بحران کا ایک نام ہے اور وہ ہے کام کا بحران۔ میں چاہتا ہوں کہ کارکنوں کو عزت ملے۔ میں فرانسیسیوں کی نوکریوں کو بیرونِ ملک جانے سے بچانا چاہتا ہوں۔ میں سماجی بہبود پر یقین نہیں رکھتا اور یہ بھی نہیں مانتا کہ سب برابر ہیں۔ میں میرٹ پر یقین رکھتا ہوں، جدوجہد اور محنت کے پھل کو مانتا ہوں اور سب سے بڑھ کر مجھے سخت محنت پر یقین ہے
نکولس سرکوزی

فرانس کی وزیرِ تجارت کرسٹین لیگارڈ کے مطابق’ سرکوزی عمل پر یقین رکھنے والے ایسے فرد ہیں جو کام پورا کرنا چاہتے ہیں۔ فرانس میں بہت سے ایسے سیاستدان ہیں جن کے پاس اچھے آئیڈیاز ہیں لیکن ان میں سے چند ہی وہ جذبہ رکھتے ہیں جو ان منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے درکار ہے۔ سرکوزی اس جذبے سے بھرپور ہیں اور شاید یہی وہ چیز ہے جسے لوگ سختی کہتے ہیں‘۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران سیگولین رویال سے دوبدو مباحثے میں دو کروڑ فرانسیسیوں کے سامنے نکولس سرکوزی نے اپنی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا تھا’ فرانس کے اخلاقی بحران کا ایک نام ہے اور وہ ہے کام کا بحران۔ میں چاہتا ہوں کہ محنت کشوں کو عزت ملے۔ میں فرانسیسیوں کی نوکریوں کو بیرونِ ملک جانے سے بچانا چاہتا ہوں۔ میں سماجی بہبود پر یقین نہیں رکھتا اور یہ بھی نہیں مانتا کہ سب برابر ہیں۔ میں میرٹ پر یقین رکھتا ہوں، جدوجہد اور محنت کے پھل کو مانتا ہوں اور سب سے بڑھ کر مجھے سخت محنت پر یقین ہے‘۔

سرکوزی کے ایک متنازعہ بیان کے بعد 2005 میں پیرس کے نواح میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

جو فرانس سرکوزی کو ملا ہے وہاں بیروزگاری کی شرح نو فیصد ہے اور نوجوانوں میں تو یہ شرح اور بھی زیادہ ہے کہ چوبیس سال سے کم عمر کے پچیس فیصد نوجوان بیروزگار ہیں۔چناچہ نکولس سرکوزی نے ہفتے میں پینتیس گھنٹے کام کو زیادہ سے زیادہ حد کی بجائے کم از کم حد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے اینگلو سیکسن اقدار اور امریکہ سرکورزی کی پسندیدگی کی فہرست میں اوپر ہیں۔ وہ زیادہ تر فرانسیسیوں کی طرح ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کے مخالف ہیں اور کلیدی اتحادی ممالک کے بارے میں انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد پہلے برلن جائیں گے پھر برسلز اور پھر امریکہ اور افریقہ۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں برطانیہ کا نام موجود نہیں۔

لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا یورپ کی ایک ہٹ دھرم قوم کے صدر ان اصلاحات پر عملدرآمد کر پائیں گے جن کی بنیاد پر انہوں نے انتخاب جیتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار گیرارڈ گرنبرگ کے مطابق’ فرانسیسی عوام اس حوالے سے بٹے ہوئے ہیں۔ کچھ مستقبل کے خوف سے تبدیلی نہیں چاہتے جبکہ کچھ مانتے ہیں کہ اب بدلاؤ کا وقت آ گیا ہے‘۔

نومنتخب فرانسیسی صدر کے لیے ایک بڑا چیلنج اس منقسم اور مخمصے میں پڑی قوم کو اکھٹا کرنا ہے اور یقیناً وہ جانتے ہیں کہ بطور صدر یہ ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

فرانس کی نوجوان نسل تیزی سے بدلتے سیاسی منظر کا حصہ بننا چاہتی ہے۔

ادھر شاید بائیں بازو کے حامیوں کو اپنی شکست کا یقین بھی آ گیا ہے۔ سرکوزی کی مخالف سیگولین رویال کی ایک حامی ایلیس کا کہنا ہے’ ہم بہت مایوس ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس شکست کا خدشہ تھا بس ہم اس پر یقین نہیں کرنا چاہتے تھے اور اب یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے‘۔

سیگولین کے حامیوں نے شاید انہیں سرکوزی کے خوف سے ووٹ دیا نہ کہ ان کی پالیسیوں پر یقین کرتے ہوئے۔ یہ صدارتی انتخابات میں سوشلسٹوں کی لگاتار تیسری شکست ہے۔

لیکن شاید پارٹی کی اس شکست نے ایک نئی رہنما کو جنم دیا ہے اور جہاں سرکوزی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پاس فرانس کو بدلنے کا مینڈیٹ ہے وہیں رویال کے پاس یقیناً اپنی جماعت میں جدیدیت لانے کا مینڈیٹ موجود ہے۔

سنتالیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والی رویال 1995 کے بعد سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی سوشلسٹ امیدوار ہیں۔ لیکن ان کے پاس اگلی جنگ سے قبل وقت بہت کم ہے۔

آئندہ ماہ فرانس میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں اور سیگولین رویال کے ساتھی اور سوشلسٹ رہنما فرینکو ہالینڈ کے مطابق’ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب اتحاد کی ضرورت ہے‘۔ تاہم اب چاہے جو ہو فرانس کا سیاسی منظر تیزی سے بدل رہا ہے اور نوجوان نسل اس کا حصہ بننا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد