سارکوزی یا رویال فیصلہ 6مئی کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق کرسی صدارت کا فیصلہ اب چھ مئی کو نکولاس سارکوزی اور سیگولین رویال کے درمیان مقابلے کے بعد ہو گا۔ فرانس کے سابق وزیرِ داخلہ سرکوزی نے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تیس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ محترمہ رویال پچیس فیصد کے قریب ووٹ حاصل کر سکی ہیں۔ فرانس میں اس مرتبہ ووٹنگ کی شرح پچاسی فیصد کے قریب رہی جوگزشتہ پچاس برس میں ایک ریکارڈ ہے۔ ووٹنگ میں حصہ لینے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ حکام کو پولنگ کے وقت میں اضافہ کرنا پڑا۔ پہلے مرحلے کے بعد اپنے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ایک ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے نکولاس سارکوزی نے کہا کہ فرانس نے فیصلہ کیا ہے کہ دو مختلف قسم کے طرزِ سیاست پر بحث کی جائے اور’یہ بحث خیالات کی ایک اصل بحث ہو گی‘۔ انہوں نے تمام ووٹروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ’میں نسل، عقیدے اور جماعت سے قطع نظر تمام فرانسیسی عوام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرا ساتھ دیں‘۔
سارکوزی کی مخالف سیگولین رویال نے بھی فرانسیسی عوام پر زور دیا ہے کہ اب ان کے لیے انتخاب کا عمل آسان اور واضح ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان افراد کی نمائندہ ہیں جو فرانس میں پرامن انداز سے اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ فرانس کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج سے دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم کھل کر سامنے آئی ہے۔ نکولاس سرکوزی سے بائیں بازو کے حمایتیوں کو خدشہ ہے کہ وہ ایک ایسے مصلح ہیں جو فرانسیسی طرزِ زندگی بدل دیں گے اور جس کے نتیجے میں عوام کو فلاحی ریاست سے کم فوائد ملیں گے اور انہیں زیادہ کام کرنا پڑے گا۔ اس کے مقابلے میں سیگولین رویال کو ملک کے کچھ سوشلسٹ بہت زیادہ مطلق العنان اور قدامت پسند تصور کرتے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے جوناتھن مارکس کے مطابق جو بھی فرانس کا صدر بنے گا وہ فرانس میں ایک سیاسی تبدیلی اور شاید فرانس کی بین الاقوامی پالیسیوں میں بھی بدلاؤ لائے گا اور اسی لیے یہ انتخابات فرانس سے باہر رہنے والوں کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔ | اسی بارے میں فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ20 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||