BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 October, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں
کونڈولیزا رائس
امریکہ آئندہ برس کے صدارتی انتخابات سےقبل معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ہندوستان کے ساتھ جوہری معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔

کونڈولیزا رائس کا یہ بیان حکومت ہند کی جانب سے ان واضح اشاروں کے پس منظر میں آیا ہے کہ بائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں کانگریس کی حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے ہی اقتدار میں ہے۔

کمیونسٹ جماعتوں کو خطرہ ہے کہ جوہری معاہدہ کی وجہ سے امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو بڑی حد تک متاثر کرنے کی حیثیت میں آجائے گا۔ وہ واضح الفاظ میں یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ا س معاہدے پر عمل درآمد کیا گیا تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے، اور مبصرین کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں وسط مدتی انتخابات کرانا ناگزیر ہو جائے گا۔

اس متنازعہ معاہدہ کے تحت ہندوستان کو غیرفوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری ایندھن تک رسائی حاصل ہوگی حالانکہ ہندوستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے ہیں۔

پرنب مکھرجی
کمیونسٹ جماعتوں نے اگر حمایت واپس لے لی تو وفاقی حکومت اقلیت میں آجائےگی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان شان میک کارمیک کے مطابق محترمہ رائس نے پیر کے روز ہندوستانی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ امریکہ معاہدہ پر قائم ہے اور اس پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس معاہدے کو ایک نئی شکل دی جاسکتی ہے، ترجمان نے کہا کہ فی الحال اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

مسٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت اور کمیونسٹ جماعتوں کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن جمود کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ اب بات چیت 16 نومبر سے دوبارہ شروع ہوگی۔

امریکی حکومت چاہتی ہے کہ آئندہ برس کے صدارتی انتخابات سے قبل اس معاہدے پر عمل درآمد مکمل ہوجائے۔

مسٹر منموہن سنگھ نے حال ہی میں صدر بش کو بتایا تھا کہ انہیں سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس معاہدے پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے یہ عندیہ ملا تھا کہ ہندوستان معاہدہ سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

اس معاہدے کی بین الاقوامی سطح پر بھی مخالفت کی گئی ہے کیونکہ معاہدے کے تحت ہندوستان استعمال شدہ جوہری ایندھن کو دوبارہ افزودہ کرسکتا ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
منموہن سنگھ اور جارج بُشانڈیا: سیاسی بحران
ہندامریکہ معاہدہ سے حکومت مشکلات میں
بایاں محاذ اور حکومتہند امریکہ تعلقات
جوہری معاہدے پر بائیں بازو سے بڑھتے اختلافات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد