نیوکلیئر معاہدہ اور بڑھتے اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مستقبل کے لیے اگر وزیر اعظم منموہن سنگھ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ابھی بھی امید نہیں چھوڑی ہے تو یہ بات وہ صرف کہنے کے لیے ہی کہہ رہے ہیں۔ ایسا اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اور بائيں بازو کی جماعتوں کے درمیان اس مسئلہ پر جن نوٹس کا تبادلہ ہوا ہے ان سے یہ واضح ہے کہ سرکار اور بائیں بازو کے درمیان جاری اجلاس کے سلسلے میں اب صرف باتوں کو دہرایا جا رہا ہے اور دونوں کے درمیان صلح کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور حکومت کے درمیان اس مسئلے پر چھڑی بحث کی دستاویزات کو دیکھنے کا موقع بی بی سی کو بھی حاصل ہوا اور ان میں بالکل واضح طور پر نظر آیا کہ بائیں بازو کے رہنماؤں نے جو سوالات سرکار سے کیے ہیں یا تو ان کا جواب سرکار کے پاس ہے نہیں یا پھر سرکار کے جواب سے بائیں بازو کے رہنما مطمئن نہیں ہیں۔ بائیس اکتوبر کو یو پی اے اور بائیں بازو کے رہنماؤں کے درمیان ہوئے اجلاس میں بائیں بازو کے رہنماؤں نے خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے پرانا نوٹ سرکار کو دیا، لیکن اس بار اس میں سخت نکتہ چینی بھی کی گئی۔ اس میں سرکار سے کہا گیا کہ اگر حکومت اس مسئلہ پر بات چیت جاری رکھنا چاہتی ہے تو سرکار کو بائیں بازو کے رہنماؤں کو جواب سنجیدگی سے دینا چاہیے۔
اس نوٹ میں بائیں بازو کی جماعتوں نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سبب بھارت کی خارجہ پالیسی پر ہونے والے اثرات سے متعلق دس پہلوؤں پر حکومت سے صفائی طلب کی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ زور بھارت اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک تعلقات پر دیا گیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے پوچھا ہے کہ جب کامن منیمم پروگرام (کم از کم مشترکہ پروگرام ) میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ملٹی پولر دنیا کی حمایت کرے گی تو اکیلے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کیسے بنائے جاسکتے ہیں۔ اس سوال پر حکومت نے جواب دیا کہ بھارت کئی ممالک کے ساتھ دفاعی سمجھوتے کر رہا ہے صرف امریکہ کے ساتھ نہیں۔ اس کے علاوہ بایاں محاذ کے نوٹ ميں آئی اے ای اے میں ایران کے خلاف ووٹ، عراق پر حکومت کا رویہ اور اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری جیسے معاملات پر سرکار سے صفائی مانگی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ان معاملات پر بے حد سرسری اور مختصر جواب دیے گئے ہیں۔ خصوصی طور پر بایاں محاذ نے حکومت سے پوچھا کہ ہندوستان 126 ایف 16 جنگی طیارہ امریکہ سے خرید رہا ہے، جو ابھی تک کی سب سے بڑی دفائی خریداری ہے۔ اور یہ طیارہ امریکہ پاکستان کو بھی فروخت کر رہا ہے، تو ایسے میں ہندوستان امریکہ پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہے۔ اس پر حکومت کا جواب ہے کہ ہندوستان صرف امریکہ سے دفاعی خریداری نہیں کر رہا ہے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی ایسی خریداری کر رہا ہے۔ کل ملا کر حکومت اور بایاں محاذ کے درمیان ’ون ٹو تھری‘ معاہدہ کو لیکر جو بحت ہو رہی ہے اس میں بایاں محاذ حکومت کے رخ سے ناراض ہی نظر آرہے ہے۔ اس سے پہلے بھی بایاں محاذ اور حکومت کے درمیان خطوط کا جو سلسلہ چلا ہے اس میں بھی حکومت بایاں محاذ کےخدشات کو دور نہيں کر پائی اور ان خطوط میں تنازعہ ’ہائد ایکٹ‘ کے ضوابط سے متعلق ہے۔
حکومت آخر تک بایاں محاذ کو یہ یقین دہانی نہیں کرا پائی ہے کہ امریکہ کا گھریلو قانون ’ون ٹو تھری‘ معاہدے پر اثر انداز نہیں ہوپائے گا۔ اس کے ساتھ ہی استعمال شدہ جوہری ایندھن کے دوبارہ استعمال کے ساتھ ہی جوہری ری ایکٹر کے لیے بغیر روک ٹوک ایندھن کی فراہمی پر بھی حکومت بایاں محاذ کو کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکی ہے۔ کل ملا کر موجودہ صورت حال میں یہی کہاجاسکتا ہےکہ شاید ہند امریکہ جوہری معاہدے کو لیکر بایاں محاذ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ اس میں مزید تلخی ہی پیدا ہو رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||