ہند۔امریکہ جوہری معاہدے کا کیا ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند۔امریکہ جوہری معاہدے پر ہندوستانی حکومت کے نئے ردعمل کے باوجود امریکی انتظامیہ نے امید نہیں چھوڑی ہے اور محتاط رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نے امریکہ کے صدر جارج بش سے کہا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدے کے انعقاد میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ’پرامید‘ہیں کہ معاہدہ ہو جائےگا۔ ہند۔امریکہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو ہندوستان جیسے ملک کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کی حکمراں کانگریس پارٹی کو اپنے اتحادی بائیں محاذ سے معاہدے پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ حکومت معاہدہ نہ کرے کیونکہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط ہیں جس سے ہندوستانی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہے۔ بائیں بازو کا کہنا ہے کہ اگر حکومت امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرتی ہے تو وہ حکومت سے حمایت واپس لے سکتے ہیں۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ معاہدے سے متعلق سارے اختلافات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ وسط مدتی انتخابات نہیں چاہتی۔ پیر کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے نائجیریا کے دورے کے دوران امریکی صدر جارج بُش سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدے کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے اس بات چیت پر کوئی رد عمل نہیں آیا حالانکہ دفتر خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی کا کہنا ہے امریکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ معاہدہ اسی دائرے میں ہوگا جس پر دونوں ملکوں نے رضامندی ظاہر کی ہے‘۔ تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کو یہ نہیں بتائیں گے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات سے کیسے نمٹے۔
ہندوستا ن کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے سے پہلے امریکہ کو جوہری عدم توسیع کے مخالفین سے شدید مخالفت کا سامنا تھا اور اس معاہدے کو 21 ویں صدی میں ہند امریکہ رشتوں کی نئی کڑی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ہندوستان کو ابھی نہ صرف جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے بات کرنا باقی ہے بلکہ اسے نیوکلیئر سپلائی گروپ سے بھی منظوری لینی ہوگی اس کے بعد ہی اس معاہدے کو اس برس اختتام سے پہلے امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائےگا۔ لیکن اس مقررہ وقت پر معاہدہ پر دستخط ہونا مشکل لگتا ہے۔ ہند امریکہ بزنس کونسل کے صدر رون سومرز کا کہنا ہے’ہندوستان اگر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کرنے کے اس موقع کو گنوا دیتا ہے تو جوہری توانائی کے دائرے کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا‘۔ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے سینئر محقق نے ایک نیوز میگزین سے کہا تھا کہ اگر ہندوستان کی گھریلو سیاسی اختلافات کے سبب جوہری معاہدہ نہیں ہوتا ہے تو ہندوستان کی بین الاقوامی ساکھ کو دھچکا پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا اگر معاہدہ نہیں ہوا تو’یہ صرف دلی کے لیے ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا نہیں ہوگا بلکہ امریکہ انتظامیہ بھی مستقبل میں ہندوستان کے ساتھ کسی بھی اہم معاہدے کی پہل نہیں کرے گا‘۔ اب ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ میں آئندہ برس انتخابات کے بعد جو نئی حکومت آئےگی وہ اس معاہدے کی حمایت کرے گی یا نہیں: خاص کر اگر حکومت ڈیموکریٹس کی ہوتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے ایک ڈیموکریٹ رکن جم میکڈرمٹ کا کہنا ہے کہ’معاہدہ پر بات چیت ابھی جاری ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’معاہدے سے متعلق حالیہ پیشرفت کوئی آخری فیصلہ نہیں بلکہ وقتی مشکل ہے اور جب ڈیموکریٹ اقتدار میں آئیں گے تو وہ معاہدے پر وہاں سے بات چیت شروع کريں گے جہاں اب کی حکومت اسے چھوڑے گی‘۔ جارجیا یونیورسٹی کے پروفیسر انوپم شریواستو کا کہنا ہے کہ’یہ معاہدہ ابھی نہيں ہوا تو کبھی نہیں ممکن ہوگا۔ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آتے ہیں تو جوہری عدم توسیع کے حمایتی اس معاہدے کی مخالفت میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور معاہدے میں بعض ایسی تبدیلیوں کا مطالبہ کريں گے جو ہندوستانی سائنسدانوں کو ناقابل قبول ہوگا‘۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا وقت کا فیصلہ انڈیا کرے گا: البرادعی 10 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا آئی اے ای اے کے سربراہ بھارت میں09 October, 2007 | انڈیا سونیا کے بیان سے بایاں محاذ برہم08 October, 2007 | انڈیا ’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘07 October, 2007 | انڈیا ہند امریکہ معاہدہ، حکمران اتحاد میں دراڑیں21 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||