BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 October, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وقت کا فیصلہ انڈیا کرے گا: البرادعی

البرادعی
البرادعی دلی میں بھارتی وزیراعظم سے بھی ملیں گے
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ہندوستان کو کرنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق آئی اے ای سے کب بات کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول اس کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں ہے۔

ڈاکٹر البرادعی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وہ خود کرے گا لیکن ’میں ہندوستان کو جوہری شعبے میں برابر کے حصہ دار کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

مسٹر البرادعی ہندوستان کے تین روزہ دورے پر ہیں اور بدھ کو انہوں نے دلی میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی۔

اس سے پہلے منگل کو انہوں نے ممبئی میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کا دورہ کیا اور وہ وہاں ہندوستانی جوہری سائنس دانوں سے بات چیت کی۔

مسٹر البرادعی نے بتایا کہ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے ان کی بات چیت اطمینان بخش رہی اور پرنب مکھرجی نے ان کے ساتھ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے ون ٹو تھری معاہدے پر تفصیل سے بات چیت کی۔

مسٹر البرادعی کا کہنا تھا کہ ہندوستان جوہری معاہدہ کب کرے گا یہ فیصلہ اسے خود کرنا ہے تاہم ہندوستان جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے اسے توانائی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے کسانوں اور غریبی کی حالات میں رہنے والے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے انڈیا کو توانائی کی ضرورت ہے اور اس نقطہ نظر سے ہند امریکہ جوہری معاہدہ اہمیت کا حامل ہے۔

ہندوستان میں بائیں بازوں کی جماعتیں ہند امریکہ جوہری معاہدے کی سخت مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بعض ایسی شرائط ہیں جن سے ملک کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کی دخل اندازی صاف نظر آتی ہے۔

مسٹر البرادعی کا یہ کہنا کہ آئی آے ای سے بات چیت کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے حکمراں کانگریس پارٹی کے لیے اچھی خبر ہے۔اب اسے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ معاہدے سے متعلق بات چیت کرنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔

جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ہندوستان کو ابھی نہ صرف جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے بات کرنا باقی ہے بلکہ اسے نیوکلیر سپلائی گروپ سے بھی منظوری لینا ہوگی۔ اس کے بعد ہی اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد