آئی اے ای اے کے سربراہ بھارت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں کانگریس اور بائیں محاذ کے درمیان ہند امریکہ جوہری معاہدے پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے درمیان اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی تین روزہ دورے پر ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ البرادعی ممبئی میں بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کا دورہ کر رہے ہیں اور وہ وہاں ہندوستانی جوہری سائنس دانوں سے بات چیت کریں گے۔ آئندہ دو دونوں میں وہ دلی میں وزیر اعظم اور وزیرخارجہ سے ملاقات کرنے والے ہیں اس کے علاوہ وہ ایک سیمینار سے بھی خطاب کریں گے۔ عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ’یہ کوئی سیاسی دورہ نہیں ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ اس دورے کا کلیدی پہلو ہوگا‘۔ ہندوستان کی حکومت نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ ہندامریکہ معاہدے کے نفاذ کے اگلے قدم کے طور پر عالمی جوہری ایجنسی سے بات چیت کرے گی خواہ اس کے لیے حکومت ہی کیوں نہ گر جائے۔ منگل کو ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اختلافات دور کرنے کے لیے حکمراں اتحاد اور بائیں محاذ کے رہنماؤں کے درمیان جو میٹنگ ہوئی اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ’اس میٹنگ میں ہند امریکہ جوہری معاہدے اور اس کے سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر بات چیت ہوئی اور اگلی میٹنگ 22 اکتوبر کو ہوگی‘۔ ویانا اور جنیوا میں بعض سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ البرادعی کا یہ دورہ بہت اہم ہے اور وہ ہندوستانی قیادت سے جوہری معاہدے کے بارے میں غیر رسمی طور پر بات چیت کریں گے اور’ اس بات چیت میں ہندوستانی ری ایکٹروں کی زمرہ بندی کا احاطہ کیا جا سکتا ہے‘۔ بائیں بازوں کی جماعتیں البرادعی سے معاہدے کے سلسلے میں کسی طرح کی بات چیت کی مخالفت کر رہی ہیں لیکن وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ’مسٹر البرادعی کا یہ دورہ بہت اہم ہے۔ وہ ہندوستان کے ایک معزز مہمان کے طور پر آئے ہیں‘۔ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ہندوستان کو ابھی نہ صرف جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے بات کرنا باقی ہے بلکہ اسے نیوکلیئر سپلائی گروپ سے بھی منظوری لینی ہوگی اس کے بعد ہی اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائےگا۔ بائیں محاذ نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جوہری معاہدہ ہندوستان کے مفادا ت کے خلاف ہے اور اسے اپنے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کی مستقبل کی ضروریات کے تحت یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے ہندوستان کی جوہری یا خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہيں پڑے گا۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا ’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘07 October, 2007 | انڈیا سونیا کے بیان سے بایاں محاذ برہم08 October, 2007 | انڈیا ہند امریکہ معاہدہ، حکمران اتحاد میں دراڑیں21 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||