جوہری معاہدے پر مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور اقوام متحدہ کا ایٹمی ادارہ آئی اے ای اے ایٹمی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق ایک معاہدے کے ’متفقہ متن‘ پر بات چیت کر رہے ہیں، جس پر اس ہفتے ایک میٹنگ ہونی ہے۔ ہندوستانی سفارت کاروں کی ایک ٹیم سولہ جنوری کو ویانا کے لیے روانہ ہوگی جہاں آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل اٹامِک انرجی ایجنسی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اس معاہدے پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ ہند-امریکہ جوہری معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہندوستان کو اپنی بائیس میں سے چودہ ایٹمی تنصیبات کی اقوام متحدہ کے ذریعے نگرانی کرانی ضروری ہے۔ آئی اے ای اے کے ساتھ سمجھوتے طے پاجانے کے بعد این ایس جی یعنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے پینتالیس رکن ممالک کو یہ اختیار حاصل ہوجائے گا کہ وہ ہندوستان کو پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی فراہم کرسکیں۔ نئی دہلی میں ہندوستان کے خارجہ سیکرٹری شیوشنکر مینن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنوری کے وسط میں وہ ایک معاہدے پر اتفاق کی امید کررہے ہیں۔ ’مذاکرات اطمینان بخش طور سے جاری ہیں اور ہم امید کررہے ہیں کہ ایک مثبت نتیجے تک جلد پہنچ جائیں گے۔‘ اس دوران این ایس جی کے رکن ممالک نے بھی اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ ایٹمی تجارت شروع کرنے کے حق میں ہیں۔ خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ نے جو ہندوستان سے ایٹمی تجارت کی مخالفت کرتے رہے ہیں، اپنے موقف میں لچک دکھائی ہے۔ آئی اے ای اے کے ساتھ ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کے معاہدے کے بعد ہندوستان پینتالیس رکنی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا جس کے تحت ہندوستان کو ایٹمی تجارت کے لیے مستثنیٰ قرار دیدیا جائے گا۔ این ایس جی عالمی ایٹمی تجارت کا نگراں ادارہ ہے۔ ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے یہ سمجھوتہ ضروری ہے اور بش انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس کی مدت کے خاتمے سے قبل ہی یہ معاملہ طے پاجائے۔ ہندوستان میں ہند-امریکہ جوہری معاہدے کو بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں کانگریس کی سربراہی میں چلنے والے حکمراں اتحاد یو پی اے یعنی یونائٹیڈ پروگریسِو الائنس کی حکومت سے باہر رہ کر حمایت کرتی ہیں۔ نئی دہلی میں عالمی امور کے مبصر ادے بھاسکر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدے کو داخلی مخالفت کا سامنا ہے۔ سنیچر کو نئی دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ معاہدے پر دستخط ہونے کی صورت میں بایاں بازو حکومت سے اپنی حمایت واپس لے سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہندوستان میں انتخابات کرانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پرنب مکھریجی کا کہنا تھا کہ ایک اقلیتی حکومت اس نوعیت کے عالمی معاہدے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر دستخط نہیں کرسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||