2007: جوہری تنازعہ کا برس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزرے ہوئے برسوں کی طرح سال دو ہزار سات بھی ہندوستان میں زبردست سیاسی سرگرمیوں کا برس رہا۔ اس برس بڑی بڑی سیاسی تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ عدالتوں نے متعدد اہم مقدمات کے فیصلے سنائے۔ متعدد علاقوں کو شدید سیلاب اور ماحولیاتی تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور ریاستوں ميں انتخابات نے کئی سیاسی رہنماؤں کی سیاسی بساط الٹ دی۔ 2007 کا جب آغاز ہوا تھا اس وقت ہندوستان اقتصادی ترقی کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ زراعت میں یا صنعتوں میں اور معاشرے کے امیر طبقے میں ایک اعتماد کے آثار نمایاں تھے۔ ترقی اور خوشحالی کی باتوں کے درمیان دارالحکومت دلی سے منسلک نوئیڈہ کے ایک رہائشی علاقے ميں ایک نالے کی صفائی نے پورے ملک کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ اس نالے سے درجنوں بچوں کے اعضاء پولیتھین کے پیکٹوں میں رکھے ہوئے برآمد ہوئے۔ پولیس کی تفتیش سے ایک’سیرئل کلر‘ کا پتہ چلا جس نے ایک اندازے کے مطابق پڑوس کے ایک گاؤں نٹھاری کے تقریبا چالیس بچوں کو قتل کیا۔ جنوری میں جنوبی ایشائی ممالک کی انجمن کا اجلاس ہوا۔ ہندوستان اور پاکستان کے وزراء اعظم باہمی اختلافات حل کر سکے اور سارک کو ایک مؤثر تنظیم میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں افغانستان کو ایک نئے رکن کے طور پر شامل کیا گیا۔
ہندوستان اور پاکستان کے وزراء خارجہ کی ملاقات کی تیاریاں چل ہی رہیں تھیں کہ 18 فروری کی درمیانی شب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کے دو ڈبوں میں بم دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں کم از کم 66 پاکستانی اور ہندوستانی مسافر ہلاک ہوئے۔ ان دھماکوں کے مجرمین کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ماضی کی طرح 2007 میں بھی ملک کے کئی شہروں اور مقامات پر خونریز بم دھماکے ہوئے۔ اس بار خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اجمیر شریف میں بھی بم دھماکہ ہوا۔ حیدرآباد کی مکہ مسجد اور بعد میں شہر کے ایک تفریحی مقام کو دہشتگری کا نشانہ بنایا گیا جس میں پچاس سے زيادہ لوگ مارے گئے۔ نومبر میں اتر پردیش کے تین شہروں میں بم دھماکے ہوئے۔ بیشتر بم دھماکوں کا الزام پاکستان اور بنگلہ دیش میں واقع بعض اسلامی شدت پسند تنظیموں پر عائد کیے گئے۔ جبکہ یہ تنظیمیں ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔
اس برس جولائی میں 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں ممبئی کی ایک عدالت نے سو افراد کو مجرم قرار دیا اور ان میں بارہ کو پھانسی اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ فلم ادا کار سنجے دت کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں اسی عدالت نے چھ برس کی قید کی سزا سنائی۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی سازش میں مجرم قرار دیے گئے محمد افضل گرو کو پھانسی دینے کا مطالبہ ہوتا رہا اور یہ معاملہ گجرات کے انتخابات میں اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے اٹھایا۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں ملائم سنگھ یادو کو شکست ہوئی اور دلت رہنما مایاوتی واضح اکثریت سے اقتدار میں آئیں۔ انتخابات سے قبل بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی نفرت انگیز سی ڈی جاری کی لیکن انتخابی کمیشن میں شکایت کیے جانے کے بعد اس نے اس سی ڈی سے لا تعلقی ظاہر کی۔
اس برس صدارتی انتخاب کا بھی برس تھا۔ ڈاکٹر عبدالکلام کی جگہ پرتیبھا پاٹل ملک کی نئی صدر بنیں۔ مئی میں ایک مذہبی گروپ ڈیرہ سچا سودا کے روحانی پیشوا سنت گرمیت رام رحیم کو ایک تصویر میں سکھوں کے گرو، گرونانک جیسی شبیہہ میں دکھا یا گیا تھا۔ اس تصویر سے سکھوں کے مذہبی رہنما برہم ہو گئے اور سنت رام رحیم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ پنجاب اور ہریانہ میں کئی مہینے تک کشیدگی جاری رہی۔ اگست میں شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص مغربی بنگال اور بہار میں زبردست سیلاب آیا۔
مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے میں ایک صنعتی مرکز قائم کرنے کا حکومت کا قبضہ شدید تنازعہ کا شکار ہوا۔ اس کی مخالفت اور حمایت میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ پر تشدد جھڑپوں میں متعدد افراد مارے گئے۔ بالآخر حکومت کو یہ قبضہ ترک کرنا پڑا ۔ اقتصادی اعتبار سے ہندوستان کی ترقی کا عمل جاری رہا۔ ملک میں صنعت، زراعت اور سروسز کے شعبوں میں تیز رفتار ترقی دیھکنے میں آئی ہے۔ دسمبر میں گجرات میں اسمبلی انتخابات ہوئے اور اس بار بھی نریندر مودی انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی اب ریاست کے بعد قومی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہيں۔اس دوران بی جے پی کے سینئر رہنما لعل کرشن اڈوانی کو آئندہ پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کا جائزہ لینے والی سچر کمیٹی نے اس برس اپنی رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے مسلم براردی کی حالت بہتر کرنے کے لیے سفارشات پیش کيں۔
بائيں محاذ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح اس معاہدے کی حمایت نہیں کر سکتی۔ اس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس سلسلے میں مزید بات چیت کی تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لےگی۔ 2007 تو اختتام کو پہنچا لیکن ہندوستان کی سیاست کافی اندیشوں اور کشدیگی کے ماحول میں نئے سال میں قدم رکھ رہی ہے۔ |
اسی بارے میں دلّی میں گجر برادری کی ریلی03 November, 2007 | انڈیا سکیورٹی امور پر سارک کا اجلاس23 October, 2007 | انڈیا یو پی: بھگدڑ مچنے سے متعدد ہلاک03 October, 2007 | انڈیا راہل کانگریس کے جنرل سیکرٹری24 September, 2007 | انڈیا ہند امریکہ معاہدہ، حکمران اتحاد میں دراڑیں21 September, 2007 | انڈیا سیتو سندرم اور ہندوستانی سیکولرزم16 September, 2007 | انڈیا فرضی تصادم،پولیس والوں کو عمر قید12 September, 2007 | انڈیا بابری کمیشن، پھر توسیع02 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||