BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راہل کانگریس کے جنرل سیکرٹری

راہل گاندھی کا تعلق ہندوستان کے سب سے بڑے سیاسی خاندان سے ہے (فائل فوٹو)
ہندوستان کی حکمران کانگریس پارٹی نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کے بیٹےاور رکن پارلیمان راہل گاندھی کو تنظیم کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا ہے۔

پیر کو کانگریس کے سینئر رہنما جناردن دیودی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ راہل گاندھی کو پارٹی کے نوجوانوں کے شعبے یوتھ کانگریس اور سٹوڈنٹ ونگ کا انچارج بنایا گیا ہے۔

سینتیس سالہ راہل گاندھی اتر پردیش کے امیٹی حلقے سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور وہ کانگریس کی سب سے اہم پالیسی ساز کمیٹی ’کانگریس ورکنگ کمیٹی‘ کے رکن ہوں گے۔ انہیں نئے تنظمیی ڈھانچے میں کئی دیگر کمیٹیوں میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

کانگریس نے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں ردو بدل سونیا گاندھی کی صدارت میں کیا۔ اس کے علاوہ پارٹی نے انتخابی منشور کمیٹی کی تشکیل کا بھی اعلان کیا ہے۔

اگرچہ کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے میں یہ ردو بدل معمول کے مطابق ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سیاسی فضا میں قبل ا زوقت پارلیمانی انتخابات کے آثار نمایاں ہیں۔

راہل گاندھی نے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا لیکن بظاہر اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا۔

لیکن تجزیہ کار ونود شرما کا کہنا ہے کہ یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کے سب سے اہم شعبے ہیں۔ ’ راہل کو ان شعبوں کا انچارج بنانے سے نہ صرف یہ کہ پارٹی کے نوجوان ارکان میں نیا جوش پیدا ہوگا بلکہ اس سے پارٹی کی کارکردگی کا جائزہ سونیا گاندھی کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی کی سطح پر بھی ہوسکے گا۔

پارٹی کے صدر کے دفتر پر ان کے سیکڑوں حامی جمع ہوگئے

جنرل سیکرٹری کے طور پر راہل گاندھی کا نام آتے ہی پارٹی کے صدر کے دفتر پر ان کے سیکڑوں حامی جمع ہوگئے اور ڈھول تاشے اور پٹاخوں سے ساری فضا گونج اٹھی۔

تجزیہ نگار ونود شرما کا کہنا ہے کہ پارلمیانی انتخابات کب ہوں گے، اس کا فیصلہ کانگریس کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ بائیں بازوں کی جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ حکومت گرائیں گے یا نہیں لیکن ’ کانگریس یقیناً اب اسی ذہن سے کام کر رہی ہے کہ بائیں محاذ پر اب اعتبار کرنا اس کے لئے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘

پیر کے روز ہونے والے تنظیمی ردو بدل سے اس بات کا بھی اشارہ ملا ہے کہ کانگریس اپنے ’ایک رہنما ایک عہدہ‘ کے اصول پر شاید اب عمل کرے۔ اگر ایسا ہوا تو جلد ہی کابینہ میں بھی ردو بدل کیا جا سکتا ہے۔

شو سینا کے رہنما بال ٹھاکرے فائل فوٹوجوہری معاہدہ
شو سینا کی کانگریس کو حمایت
سونیا گاندھی’پراسرار سونیا‘
کانگریس میں کب جمہوریت آئے گی؟
راہول گاندھی’پاکستان ہم نے توڑا‘
یہ محض راہول گاندھی کا انتخابی نعرہ ہے؟
نٹور سنگھکانگریس کا بحران
خلافِ روایت، نٹور سنگھ کو ہٹایا کیوں گیا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد