BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 March, 2006, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس میں جمہوریت کافقدان

سونیا گاندھی
’سونیا گاندھی کے کام کرنے کے انداز اور جماعت کے ساتھ رابطوں کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں‘
بھارت کا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونا اپنی جگہ لیکن اس کی اکثر سیاسی جماعتوں کے معمولات میں کم ہی جمہوریت دیکھنے کو ملتی ہے۔

ایک رہنما کے گرد گھومنے والی ان سیاسی جماعتوں میں سب سے نمایاں ملک کی پرانی جماعت کانگریس ہے جس پر نہرو-گاندھی خاندان کی حکمرانی رہی ہے۔

آجکل کی کانگریس نے، جس کی قیادت سونیا گاندھی کر رہی ہیں، جب اس قانون میں آرڈیننس یا حکم نامے کے ذریعے تبدیلی چاہی جو ارکان پارلیمان کو کوئی دوسرا تنخواہ والا کام کرنے سے روکتا ہے تو حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسا سونیا گاندھی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

 بی جے پی اور کمیونسٹ جماعتوں کے علاوہ ملک کی زیادہ تر جماعتیں افراد کے گرد گھومتی ہیں اور ان میں صحت مند جمہوری روایات کا فقدان ہے
بھارت میں آزادی کے بعد پہلی بار انیس سو ستر کی دہائی میں ایمرجنسی کا نفاذ بھی کانگریس کے دور حکومت میں ہوا تھا اور اب پارلیمان سے بالا بالا قانون تبدیل کروانے کے فیصلے نے پرانی یادیں تازہ کر دیں۔

حزب اختلاف کے دباؤ میں آ کر اور ایک بار پھر اخلاقی فتح حاصل کرنے کے لیے سونیا گاندھی نے پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

کانگریس کے رہنما ایک بار پھر اپنی ’قربانی دینے والی قائد‘ کی تعریف کر رہے ہیں جو کوئی غلطی نہیں کر سکتی۔ لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک اگر سونیا گاندھی کے مشیر سمجھدار ہوتے تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔

ایک مبصر مہیش رنگاراجن نے کہا کہ ’کانگریس کی حالت خراب ہے۔ اسے فوری طور پر جدید بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہو رہا ہے کہ سونیا گاندھی ارکان پارلیمان کےدوسرا عہدہ رکھنے کے خلاف قانون میں تبدیلی کے حق میں نہیں تھیں اور بدھ کو پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے اس فیصلے کی مخالفت بھی کی تھی۔

 ’سونیا گاندھی کے کام کرنے کے انداز اور جماعت کے ساتھ رابطوں کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ وہ ایک پر اسرار رہنما ہیں‘
مہیش رنگا راجن
تو ایسے میں کیا یہ کہا جائے گا کہ ان کے مشیروں نے ان کی مرضی کے خلاف ان کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کی؟ یا سونیا گاندھی نے سیاسی ماحول کا اندازہ لگانے کی غرض سے قانون میں تبدیلی کی منظوری دی اور جب انہیں لگا کہ یہ ان کے خلاف جا رہا ہے تو انہوں نے حزب اختلاف کی تحریک سے ہوا نکالنے کے لیے دوسری بار ’قربانی‘ دے دی۔

یا پھر جماعت کی سربراہ اور دیگر رہنماؤں کے درمیان رابطے کی خلیج ہے۔

کسی کو اندازہ نہیں کہ سچ کیا ہے؟

مہیش رنگاراجن نے کہا کہ ’سونیا گاندھی کے کام کرنے کے انداز اور جماعت کے ساتھ رابطوں کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ وہ ایک پر اسرار رہنما ہیں‘۔

سب کو صرف یہ معلوم ہے کہ وہ ہر جمعہ کو مشاورت کے لیے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملتی ہیں۔

ان کی مخالف جماعت بی جے پی بھی ان کو نہیں سمجھ پا رہی۔ ان کا خیال تھا کہ قانون میں تبدیلی کی بنیاد پر وہ سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنائے گی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسز گاندھی غیر متوقع طور پر مستعفی ہو کر پانسا پلٹ دیا ہے۔

بی جے پی اور کمیونسٹ جماعتوں کے علاوہ ملک کی زیادہ تر جماعتیں افراد کے گرد گھومتی ہیں اور ان میں صحت مند جمہوری روایات کا فقدان ہے۔

جدید بھارت کا رنگ جب تک کانگریس جماعت کے سیاسی ماحول اور اس کے قائدین پر نہیں پڑے گا وہ ایسے ہی فضول تنازعات میں الجھتی رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد