شیو سینا کانگریس کی حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے جوہری توانائی معاہدے پر کانگریس کی حمایت کی ہے۔ شیوسینا نے اپنی حلیف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے موقف سے ہٹ کر یہ قدم اٹھایا ہے جس سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ شیو سینا اور بی جے پی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور قومی جمہوری محاذ کے دھڑے اب الگ الگ راہوں پر چلنے لگے ہیں اور ان کے درمیان کےاختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ بال ٹھاکرے نے سنیچر کواپنی پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں جوہری معاہدے کی بلا شرط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مخالفت کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ’ جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والے دیش دروہی(غدار) ہیں‘۔ اداریہ میں جوہری توانائی اور حکمراں جماعت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے بال ٹھاکرے نے کہا کہ جب تک یہ جماعتیں دیش میں ہیں ، دیش مضبوط نہیں ہو سکتا۔ ایسے وقت میں جبکہ ہندستان عالمی سطح پر مضبوط ہو رہا ہے ، اس کی مخالفت ایک غلط سوچ ہے۔ اداریہ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ’ ہم ملک کے مفاد میں اس کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں‘۔ شیوسینا کی جانب سے اپنی مخالف پارٹی کانگریس کو اس بے دھڑک بلا مشروط انداز میں حمایت دینے سے سیاسی گلیاروں میں ایک بار پھر اس خدشہ کو ہوا مل رہی ہے کہ شیوسینا کانگریس کے ساتھ نزدیکیاں بنا رہی ہے اور قومی جمہوری اتحاد کی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ شیوسینا لیڈر اور اخبار ’سامنا‘ کے کارگزار ایڈیٹر سنجے راؤت البتہ اس سے متفق نہیں ہیں انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ’صاحب (بال ٹھاکرے ) نے جو کچھ لکھا ہے وہ ملک کے مفاد میں ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ شیوسینا کی کانگریس سے نزدیکیاں بڑھ گئی ہیں‘۔ انہوں نے صدر جمہوریہ ہند کے انتخاب میں کانگریس کی امیدوار پرتیبھا پاٹل کو حمایت دینے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ’چونکہ آزادی کے ساٹھ برسوں میں پہلی مرتبہ مہاراشٹر کی کسی خاتون کو صدر بنانے کے لیے نامزد کیا جا رہا تھا اس لیے ان کی پارٹی نے ان کی حمایت کی تھی۔ شیوسینا گزشتہ کچھ عرصہ سے کانگریس کی حمایت کرتی آئی ہے۔صدر جمہوریہ ہند کے انتخاب میں اس نے بی جے پی اور حلیف جماعتوں کو ناراض کر کے کانگریس کی امیدوار پرتیبھا پاٹل کو ووٹ دیا تھا جس کی وجہ سے بی جے پی بہت ناراض ہوئی تھی اور کچھ رہنماؤں نے شیوسینا سے اتحاد توڑنے کی بات تک کی۔ لیکن بی جے پی یہ سخت قدم اٹھا نہیں سکی کیونکہ مہاراشٹر میں شیوسینا کی پکڑ کافی مضبوط ہے۔
راؤت نے البتہ حلیف جماعتوں سے الگ ہٹ کر فیصلے کرنے کے بارے میں دبے لفظوں یہ کہنے کی کوشش کی کہ’ وقت آنے پر این ڈی اے جماعتوں کو جواب دے دیا جائے گا‘۔ بی جے پی کے قومی ترجمان پرکاش جاؤڑیکر نے شیوسینا بی جے پی کی نزدیکیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا لیکن مہاراشٹر میں بی جے پی کےترجمان ونود تاؤڑے نے شیوسینا کے اس موقف کے بارے میں کہا کہ’ شیوسینا کے بارے میں وہ اپنی رائے نہیں دے سکتے لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اب بی جے پی لیڈر لعل کرشن ایڈوانی نے بھی اپنا رویہ نرم کیا ہے‘۔ مہاراشٹر کے سیاسی مبصرین شیوسینا کے اس موقف کو سیاسی چال کہتے ہیں۔ ان کے مطابق’ شیوسینا اپنی کھال بچانے کے لیے سیاسی کھیل کھیل رہی ہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مہاراشٹر اور مرکز دونوں جگہ کانگریس کی حکومت ہے اور ان کے کچھ مفاد وابستہ ہیں جو حکمران جماعت کی حمایت کے ساتھ ہی پورے ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شیوسینا سے کانگریس میں گئے لیڈر نارائن رانے کی بڑھتی طاقت کو کم کرنے کے بھی یہ ایک کوشش ہے‘۔ | اسی بارے میں شیو سینا اور بی جے پی میں اختلاف26 June, 2007 | انڈیا آؤٹ لُک میگزین کے دفتر پر حملہ14 August, 2007 | انڈیا مہاراشٹرا کے اہم معرکے 25 April, 2004 | انڈیا مہاراشٹر: شیوسینا کا پرتشدد احتجاج09 July, 2006 | انڈیا کشمیری رہنماؤں پر شِیوسینا کے حملے25 June, 2007 | انڈیا 1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل11 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||