شیو سینا اور بی جے پی میں اختلاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدارتی امیدوار کی حمایت کے معاملے میں مہاراشٹر کی علاقائی پارٹی شیوسینا اور ملک کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ دونوں طرف سے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں شروع کر دی ہیں۔ صدارتی امیدوار پرتیبھا پاٹل کی حمایت کا اعلان پچیس جون کو شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے کیا جبکہ بی جے پی آزاد امیدوار بھیروں سنگھ شیخاوت کی حمایت کر رہی ہے۔ شیوسینا کے اس اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی کے رہنماؤں نے کھل کر ان کے اس فیصلہ پر تنقید کی۔ بی جے پی کے جنرل سیکریٹری گوپی ناتھ منڈے نے واضح لفظوں میں کہا:’یہ ایک دھوکہ ہے اور اس فیصلے نے دونوں پارٹیوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے‘۔ انہوں نے شیوسینا پر الزام بھی عائد کیا کہ ان کی پارٹی نے کانگریس کے ساتھ ایک خفیہ سمجھوتہ کر لیا ہے۔ گوپی ناتھ منڈے نے شیو سینا سے سوال کیا: ’انہوں نے سوشیل کمار شندے کی حمایت کیوں نہیں کی جب کہ وہ نائب صدر کے لیے امیدوار تھے؟۔‘ منڈے کے علاوہ ریاست میں بی جے پی رہنما نتن گڈکری نے بھی شیوسینا کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرتیبھا پاٹل کی حمایت نے شیو سینا کے اس اقدام پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا اب ہندتوا پر عمل نہیں کر رہی ہے ۔اسے ایک بار پھر ہندتوا کا سبق سکھانا ہوگا۔ بی جے پی نے پرتیبھا پاٹل کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ راجستھان کی گورنر کے عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے تبدیلی مذہب بل کو آج تک منظوری نہیں دی ہے اس طرح ان کا یہ قدم ہندوتوا کے خلاف ہے۔ ان بیانات کے منظر عام پر آنے کے بعد شیو سینا کے کارگزار صدر ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے کہا:’ان کی پارٹی کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔صرف صدارتی امیدوار کی حمایت سے بائیس سال کے رشتے کو توڑنے کی کوئی وجہ ان کی سمجھ نہیں آتی ہے۔ بی جے پی ان کے لیے آج بھی ایک دوست ہے‘۔ ٹھاکرے نے منڈے اور گڈکری کے بیانات کا سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا:’ہمیں ہندتوا سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے پرتیبھا پاٹل کی صرف ان کے مراٹھی ہونے کی وجہ سے حمایت کا اعلان کیا ہے اور ایسا تو ماضی میں کئی پارٹیوں نے کیا‘۔ انہوں نے اس سلسلے میں پنجاب کی اکالی دل پارٹی کی مثال دی کہ انہوں نے گیانی ذیل سنگھ کو کامیاب بنانے کے لیے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ |
اسی بارے میں شیخاوت کو بی جے پی کی حمایت18 June, 2007 | انڈیا پرتیبھا پاٹل صدارت کی امیدوار14 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||