آؤٹ لُک میگزین کے دفتر پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی پولیس کے مطابق آؤٹ لُک میگزین کے دفتر پر پیر کی دوپہر کچھ شیوسینکوں نے حملہ کر دیا اور دفتر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ نریمان پوائنٹ پر رہیجا بلڈنگ کی دسویں منزل پر آؤٹ لُک کا دفتر ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دوپہر ایک بجے سے دو بجے کے قریب جب دفتر میں لنچ ٹائم ہوا تھا اس وقت آٹھ سے دس افراد کسی طرح دفتر کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ آتے ہی انہوں نے دفتر میں ہنگامہ شروع کر دیا۔ان لوگوں نےشیشے توڑنےشروع کر دیے اور کمپیوٹرز کو نقصان پہچانے کی کوشش کی۔ حملہ کے اطلاع ملتے ہی پولیس کمشنر ڈی این جادھو موقعہ واردات پر پہنچے۔بتایا جاتا ہے کہ حملہ کرنے کے بعد یہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے دفتر پر پہرہ لگا دیا ہے۔ اندھیری میں واقع آؤٹ لک کے پریس پر بھی مسلح پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ جوائنٹ پولس کمشنر برائے نظم و نسق کے ایل پرساد نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فی الحال پولیس نے نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کر لیا ہے۔ آؤٹ لک میگزین نے آزادی کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر ملک کے ہیرو اور ویلن کی تصاویر ان کے کارناموں کے ساتھ شائع کی ہے۔ ویلن کی فہرست میں ناتھو رام گوڈسے، نریندر مودی، داؤد ابراہیم کے ساتھ شیو سینا سربراہ بال ٹھاکرے کا نام ان کے ’سیاہ کارناموں‘ کی فہرست اور کیری کیچر کے ساتھ شامل ہے۔شیو سینک اسی کی مخالفت کر رہے تھے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ شیوسینا نےکسی اخبار کے دفتر پر حملہ کیا ہو۔سن انیس سو اکیانوے سے اب تک کئی مرتبہ شیو سینکوں نے ہندی اور مراٹھی مہانگر اخبار کے دفتر پر حملے کیے۔ مہانگر اخبار کے سابق ایڈیٹر نکھل واگلے نے شیو سینا کے اس اقدام کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’ آزادی کے ٹھیک ایک دن قبل اس طرح کسی ذرائع ابلاغ کے دفتر پر حملہ کر کے شیو سینا نے آزادی صحافت پر حملہ کیا ہے‘۔ آؤٹ لک نے لکھا ہے کہ شیو سینا تشدد کو اپنا ہتھیار مانتی آئی ہے۔پارٹی کے قیام کے بعد سے پہلے جنوبی ہند کے رہنے والوں کے خلاف اس پارٹی نے محاذ آرائی کی تھی اس کے بعد مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ انیس سو بانوے کے فرقہ وارانہ فسادات میں بال ٹھاکرے کی مبینہ اشتعال انگیز تحریروں نے شیو سینکوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا تھا۔ یہ بات ایسے وقت میگزین نے شائع کی ہے جب اسی بنیاد پر اس دور کے بند کیس دوبارہ شروع کیے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ | اسی بارے میں ’نہ فن کی قدر ہے نہ فنکار کی‘13 May, 2007 | انڈیا جے پور میں عیسائی پادری پر حملہ30 April, 2007 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد18 May, 2006 | انڈیا بی جی پی ، آر ایس ایس میں کشمکش04 July, 2005 | انڈیا ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی05 October, 2005 | انڈیا بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال06 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||