BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 May, 2007, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نہ فن کی قدر ہے نہ فنکار کی‘

وی ایچ پی کا احتجاج(فائل فوٹو)
وی ایچ پی کے کارکن ایم ایف حسین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے(فائل فوٹو)
فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی بھارتی شخصیات پیر کو ریاست گجرات کے شہر وڈودرہ میں آرٹ کی سالانہ نمائش کے دوران وشو ہندو پریشد کے ہنگامے اور توڑ پھوڑ کے خلاف ملک کی کئی ریاستوں میں احتجاج کریں گی اور دھرنا دیں گی۔

چند دنوں قبل وڈودرہ کی مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی میں فائن آرٹ شعبہ کے طالب علموں کے فن کی سالانہ نمائش میں وشوہندو پریشد کے کچھ کارکن گھس آئے تھے اور انہوں نے وہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔

ان افراد کو پوسٹ گریجویٹ طالب علم چندر موہن کی بنائی مورتی اور پینٹنگز پر اعتراض تھا۔ پولیس نے ان ہنگامہ کرنے والے افراد کے خلاف کیس درج کرنے کے بجائے طالب علم چندر موہن پر ناقابل ضمانت جرم کی دفعات عائد کر کے انہیں گرفتار کر لیا جو اس وقت بھی جیل میں ہیں۔

یونیورسٹی حکام نے بھی ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دیا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منوج سونی نے شعبہ فائن آرٹ کے ڈین شیواجی پینکر کو برخاست کر دیا تھا۔

اسی حوالے سے ممبئی میں پیر کی شام چھ بجے ملک کے نامور فنکار، تنقید نگار اور حقوقِ انسانی کے رضاکار فنکاروں پر بڑھتے حملوں، وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں کی مبینہ غنڈہ گردی اور ریاستی حکومتوں کی مبینہ خاموشی کے خلاف ممبئی کی جہانگیر آرٹ گیلری، نئی دہلی میں رابندر بھون، آندھراپردیش میں وشاکھا پٹنم فیکلٹی آف فائن آرٹس، کوچین میں کاشی آرٹ کیفے اور بنگلور میں مہاتما گاندھی روڈ پر مہاتما گاندھی کے مجسمے کے قریب احتجاج کریں گے۔

ایم ایف حسین جیسے فنکار کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم سب کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ فن سے نابلد لوگ دنیا کو یہ جتانا چاہتے ہیں کہ یہاں نہ تو فن کی قدر ہے اور نہ ہی فنکار کی
مہر پیسٹن جی

چندر موہن کو آزاد کرانے کے لیے صحافی رنجیت ہوسکوٹ، مصور تشار جوگ، دستاویزی فلمساز مدھوشری دتہ سمیت نامور وکلاء اور تنقید نگاروں نے’فری چندر موہن‘ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

سنیچر کی شام بھی کیمولڈ آرٹ گیلری میں سو کے قریب فنکار، فن کے ناقد، حقوق انسانی کے رضاکار اور بالی وڈ فلم میکرز جمع ہوئے۔ یہ افراد ملک میں فنکاروں اور اظہارِ خیال کی آزادی پر بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔

حالیہ دنوں میں مصوروں، فلم میکرز اور پادریوں پر بھارت کی قوم پرست تنظیموں اور چند ہندو شدت پسند نظریات کی حامل سیاسی پارٹیوں کے رضاکاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے۔ ماضی قریب میں ہندوستان کے مایہ ناز مصور مقبول فدا حسین کی پینٹنگز کے خلاف بھی ہنگامے کیے گئے، ملک کی مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف عدالت میں کیس داخل کیے گئے جس کے بعد اکانوے سالہ مصور کو آخر کار خودساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔

مقبول فدا حسین کی پینٹنگز کے خلاف بھی ہنگامے کیے گئے،

آرٹ کی تنقید نگار مہر پیسٹن جی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا ’اس جمہوری ملک میں اگر اظہار خیال کی آزادی نہ ہو تو یہ جمہوریت کا مذاق ہے‘۔ انہوں نے وڈودرہ یونیورسٹی میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور حملے کی مذمت کی اور ساتھ ہی ممتاز مصور ایم ایف حسین کے خلاف کارروائی پر بھی افسوس ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’وہ فنکار جس کے فن کی وجہ سے آج اس ملک کو دنیا نے پہچانا، ایسے فنکار کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم سب کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ فن سے نابلد لوگ دنیا کو یہ جتانا چاہتے ہیں کہ یہاں نہ تو فن کی قدر ہے اور نہ ہی فنکار کی‘۔

اظہار خیال کی آزادی پر حملے اور فرقہ پرست تنظیموں کی بڑھتی شدت پسندی پر صحافی کلپنا شرما کا کہنا ہے کہ’افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ریاستیں اس پر خاموش ہیں جیسے یہ تنظیمیں ملک میں متوازی حکومت چلا رہی ہوں‘۔

فلم کا شعبہ بھی شدت پسند نظریات کے حامل افراد کی مخالفت سے محفوظ نہیں ہے۔ میرا نائر کی فلم’فائر‘ جب نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی تو ممبئی سمیت کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور مجبوراً سنیما مالکان کو تھیٹر سے فلم ہٹانی پڑی۔ ایسا ہی کچھ دیپا مہتہ کی فلم’واٹر‘ کی شوٹنگ پر ہوا جب اترپردیش کے شہر بنارس میں وشو ہندو پریشد کے رضاکاروں نے اس کی شوٹنگ کی سخت مخالفت کی اور نتیجتاً اس فلم کی شوٹنگ سری لنکا میں ہوئی۔

یہی نہیں بلکہ عامر خان کی فلم ’فنا‘ اور فلمساز راہول ڈھولکیا کی گجرات فسادات پر مبنی فلم’پرازنیہ‘ کو وی ایچ پی نے ہی گجرات میں نمائش کے لیے پیش ہی ہونے نہیں دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد