BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 10:56 GMT 15:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے پور میں عیسائی پادری پر حملہ

انڈیا میں پادری
انڈیا میں کچھ تنیموں کی طرف سے عیسائی برداری پر ہندؤوں کو مذہب کی تبدیلی پر مجبورکرنےکاالزام لگتاہے
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں پولیس نے کہا ہے کہ ایک عیسائی پرنسپل پر جان لیوا حملے کے معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ واقعہ اتوار کے روز ریاست کے دارالحکومت جے پور گیج گھر علاقے میں اس وقت پیش آیا جب حملے کا نشانہ بننے والے عیسائی پرنسپل والٹر مسیح چرچ میں عبادت کی تیاری کررہے تھے۔

عیسائی برادری کے ایک رکن ونود بنسن کا کہنا ہے ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ یہ واقعہ ریاست کے وزیر داخلہ جی سی کٹاریا کے گھر سے محض نصف کلو میٹر کی دوری پر پیش آیا ہے اور یہ علاقہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے گھر سے بھی زیادہ دور نہیں ہے‘۔

عیسائیوں پر حملے
 گزشتہ تین برسوں میں عیسائیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی راجستھان میں عیسائیوں کے خلاف جرم کے پچیس معاملات سامنے آئے ہیں اور پولیس ان جرائم میں ملوث افراد کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ہے
کویتا شری واستو

والٹر مسیح نے صحافیوں کو بتایا ’مجھ پر حملہ کرنے والے افراد منہ پر پٹی باندھے ہوئے میرے گھر کے اندر داخل ہوئے اور مجھے لوہے کی راڈ اور لاٹھیوں سے مار رہے تھے‘۔

والٹر مسیح پر حملے کا منظر ایک ٹی وی چینل پر دکھا یا گیا تھا۔ حملے کے وقت مسیح کی بیوی اور نو سالہ بچی بھی وہاں موجود تھی جنہیں حملہ آوروں نے گھر سے باہر نکال دیا تھا۔

جے پور کے ایک سنئیر پولیس اہلکار راکیش پوری کا کہنا ہے ’اس معاملے میں ملوث پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے میں ملوث ہونے والے دیگر افراد کو تلاش کررہی ہے‘۔

مسٹر پوری نے مزید بتایا کہ ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان افراد کا تعلق وشو ہندو پریشد یا بجرنگ دل سے ہے یا نہیں‘۔

انسانی حقوق کی تنظيمیں اور عیسائی گروپوں کا کہنا ہے کہ راجستھان میں گزشتہ تین برسوں سے ہندو نظریاتی نتظيمں اقلتیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

ہمدردی کی کوشش
اس معاملے میں نہ تو وشو ہندو پریشد اور نہ ہی بجرنگ دل کا کوئی کارکن ملوث ہے۔یہ الزام لگا کر عیسائی لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں
وشو ہندو پریشد
شہر کے عیسائیوں کا کہنا ہے کہ پرنسپل پر یہ حملہ ہندو نظریاتی تنظیمں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے کرایا ہے جبکہ وشو ہندو پریشد اس الزام کی تردید کی ہے۔

وشو ہندو پریشد کے ترجمان اودھیش پاریکھ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نہ تو وشو ہندو پریشد اور نہ ہی بجرنگ دل کا کوئی کارکن ملوث ہے۔’یہ الزام لگا کر عیسائی لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔

حقوق انسانی کی تنظیم پیپلز یونین فار سول لبرٹیز کی کارکن کویتا شری واستو کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ تین برسوں میں عیسائیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی راجستھان میں عیسائیوں کے خلاف جرم کے پچیس معاملات سامنے آۓ ہیں اور پولیس ان جرائم میں ملوث افراد کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’عیسائیوں پر حملہ کر کے بعض افراد اقلتیوں کے درمیان ڈر کا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں شمالی راجستھان میں دو پادریوں پر حملہ ہونے کے واقعات ہوئے ہیں‘۔

راجستھان میں عیسائی بہت چھوٹی اقلیت ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے گزشتہ برس مشن کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ریاست میں سو سے زائد سکول چلاتا ہے۔ بعد میں عدالت کی مداخلت کے بعد ان سکولوں کی بحالی ہوسکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد