مدھیہ پردیش: تبدیلیِ مذہب قانون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ریاست مدھیہ پردیش کی اسمبلی نے تبدیلی مذھب کے لئے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کے لئے اعلٰی اہل کاروں کو پیشگی اطلاع دینا ہوگی اور جس مذہبی رہنما کی نگرانی میں یہ عمل در آمد ہوگا اس کے متعلق بھی حکام کو پیشگی آکاہ کرنا ضروری ہوگا۔ اس قانون کے مطابق اگرمذہب کی تبدیلی حکام کو اطلاع دیۓ بغیر کی گئی تو مذہب تبدیل کرنے والے اور جس مذہبی رہنما کی نگرانی میں مذہب تبدیل کیا گیا ، دونوں کوایک برس قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔یہ بھی ممکن ہےکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر مذہب تبدیل کرنے والے سے زیادہ سخت سزا اس مذہبی رہنما کودی جائے جو مذہب تبدیل کراتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں تبدیلی مذہب ایک اہم سیاسی موضوع ہے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیمو ں کا الزام ہے کہ عیسائی تبلیغی قبائلی اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے زور زبردستی کرتی ہیں یا پھر انہیں لالچ دیا جاتا ہے۔ ریاست کے عیسائی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون چرچ کے خلاف ایک سازش ہے۔ ریاست میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس نۓ قانون کے خلاف ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک رکن لاج شنکر ہردینیا کا کہنا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والے جب حکام کو اپنے فیصلے سے آکاہ کرینگے تو ہندو تنظیمیں اسکا غلط استمعال کر سکتی ہیں۔ گزشتہ دو برس میں مدھیہ پردیش کے کئی گرجا گھروں اور عیسائي رہنماؤں پر ہندو تنظیموں کی طرف سے حملے کۓ گيےہیں۔ ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ اس قانون سے ریاست میں موجود اقلیتوں کو نشانہ بنایا جائیگا۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ دو برس سے بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ | اسی بارے میں ’دی ڈاونچی کوڈ‘ کے خلاف انڈیا میں مظاہرے12 May, 2006 | انڈیا انڈیا: طلاقوں پرقابو پانے کیلیے کمیٹیاں 11 June, 2006 | انڈیا دیوی کی توہین نہیں ہوئی: سنیل بچ گئے20 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||