دیوی کی توہین نہیں ہوئی: سنیل بچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے مشرقی شہر کلکتہ کی ہائی کورٹ نے نامی بنگالی مصنف کے خلاف ہندؤں کی دیوی سرسوتی کی توہین کے الزامات ختم کر دیئے ہیں۔ مصنف سنیل گانگوپادھیا کے بارے میں ایک اخبار نے لکھا تھا کہ اس نے ہنود کی روایت کے مطابق علم کی دیوی سرسوتی کی مورتی کو اپنی خواہش کی تسکین کے لیئے بوسہ دیا تھا۔ سنیل بنگال کے مشہور شاعر اور ناول نگار ہیں جنہوں نے دو سو پچاس سے زیادہ کتابوں کی تصنیف کی ہیں۔
ناول نگار کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کے خلاف جاری قانونی کارروائی ختم ہو گئی ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب پولیس کے ایک سابق سربراہ نے دراخواست دی تھی کہ مصنف نے سرسوتی کے بوسے کی بات کر کے ان کے مذہبی جذبات مجروح کیئے ہیں۔ بھبھوتی ناندے نے جو بارڈر پولیس کے سابق سربراہ ہیں پولیس کے پاس شکایت دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنیل کی سرسوتی سے متعلق بوسے کی بات سے نہ صرف انہیں مذہبی طور پر تکلیف ہوئی ہے بلکہ اس سے خود دیوی کی بھی توہین ہوئی ہے۔ ہنود سرسوتی کی پوجا کرتے ہیں اور اس دیوی کو فنون اور علم کی دیوی کہا جاتا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنیل کو پہلی مرتبہ متنازعہ امور سے واسطہ نہیں پڑا۔ دو سال قبل کلکتہ کے ایک اخبار کے دفاتر کے باہر اس وقت مظاہرے ہوئے تھے جب سنیل نے انڈیا کے روحانی رہنما راماکرشن کی جنسی زندگی کے بارے میں لکھا تھا۔ گزشتہ برس بنگلہ دیش کی حکومت نے انڈین میگزین کے اس شمارے پر پابندی لگا دی تھی جس میں سنیل کا وہ مضمون شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے پیغمبرِ اسلام کی جنسی زندگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ | اسی بارے میں ہندو دیوی کی بے حرمتی پر مقدمہ05 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||