بھارتی عیسائیوں کا ’ڈاونچی‘ پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں کیتھولک فرقے کے عیسائی فلم ’دی ڈاونچی کوڈ‘ کے خلاف عالمگیر احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگلے ہفتے ریلیز ہونے والی اس فلم کے خلاف ممبئی کے ایک کانونٹ سکول کے باہر مظاہرہ کیا گیا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم ان کے عقائد پر حملہ ہے اور انہوں نے مطالبات کے منظور نہ کیئے جانے کی صورت میں مزید سخت احتجاج کی دھمکی دی۔ کیتھولک فرقے کا کہنا ہے کہ وہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ کیتھولک سیکیولر فورم کے سیکرٹری جنرل جوزف ڈیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر حکومت عیسائیت کے خلاف بننے والی اس فلم کے سلسلے میں کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو فورم کے کارکنان تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کو بھارت میں نمائش کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ عیسائیت کی بالکل غلط تصویر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی برادری نے کتاب کی اشاعت پر برداشت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن دیکھنے اور سننے والی چیز کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ کسی مذہبی شخصیت کی افسانہ نگاری نہیں کر سکتے۔ لوگوں میں پہلے ہی بہت اشتعال پایا جاتا ہے اور اگر فلم ریلیز ہو گئی تو نتائج کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا‘۔ کرسچن سیکیولر فورم کی جانب سے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’ دی ڈاونچی کوڈ ایک اشتعال انگیز فلم ہے کیونکہ یہ مذہب کے کچھ بنیادی عقائد پر حملہ کرتی ہے‘۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہزاروں لوگوں کے دستخط اکٹھے کیئے ہیں جن کے ذریعے بھارتی صدر عبدالکلام سے اس فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس تنظیم نے ایک اور فلم ’ٹکل مائی فنی بون‘ پر پابندی لگائے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے جس میں ایک نن کے جنسی واقعات شامل ہیں۔ ڈاونچی کوڈ میں براؤن نے پیغمبرِ عیسائیت کی شادی اور بچوں کی موجودگی کے فلسفے کی کھوج کی ہے۔ رومن کیتھولک چرچ اس فلسفے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
بھارت میں اس فلم کے تقسیم کار ’سونی پکچرز‘ اس ضمن میں رائے کے اظہار کے لیئے دستیاب نہیں تھے۔ فلم کے خلاف کیا جانے والا یہ اس سلسلے کا دوسرا مظاہر تھا۔ منگل کو تقریباً سو مظاہرین نے ایک چرچ کے سامنے مظاہرہ کیا اور مذکورہ ناول کے صفحات جلائے۔ بھارت میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک کروڑ اسی لاکھ رومن کیتھولک عیسائی ہیں جن میں سے پانچ لاکھ ممبئی میں رہتے ہیں۔ مذکورہ فلم انیس مئی کو ریلیز کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’دی ڈاونچی کوڈ‘ کے خلاف انڈیا میں مظاہرے12 May, 2006 | انڈیا امریکہ میں ہیری پوٹر کا جادو08 January, 2006 | فن فنکار ڈاونچی کوڈ: ’خیال نہیں چرایا‘13 March, 2006 | فن فنکار ڈاونچی کوڈ خیالات ’چرائے گئے‘27 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||