BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل

ہندوستان فسادات
جسٹس سری بال کرشنا نےاپنی رپورٹ میں کئی بڑے سیاسی رہنماوں کو ملزم قرار دیا تھا
ممبئی پولیس کمشنر ڈی این جادھو نے کہا ہے کہ وہ انیس سو بانوے ترانوے فسادات کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کر رہے ہیں جو پرانے مقدموں کی تفتیش کرے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ کیا نئےمقدمے بھی درج کیے جا سکتے ہیں؟

پولیس کمشنر جادھو نے سیل کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس سیل کا نگران ایڈیشنل پولیس کمشنر کےدرجے کا عہدیدار ہوگا۔ہر زون کے ایڈیشنل اور ڈپٹی پولیس کمشنر کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ دیکھیں کہ ان کے زون میں فسادات کے دوران کتنے کیس درج ہوئے، کتنے کیس بند کر دیے گئے۔

پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھے کہ ملزموں کے خلاف نئے سرے سے کیس درج کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

اس کے علاوہ جن پولیس سٹیشنوں میں کیس درج ہوئے ہیں، ان کی کتنی تفتیش ہوئی ہے اور اب ان کی پوزیشن کیا ہے اس بات کی بھی تفتیش کرنے کی ہدایت پولیس کمشنر نے زونل کمشنرز کو دی ہے۔

فسادات کے دوران حکومت نے خود ایک ہزار تین سو اکہترمقدمات یہ کہہ کر بند کر دیے تھےمقدمے صحیح ہیں لیکن اس میں گواہ نہیں مل رہے ہیں۔

کمشنر جادھو نے فسادات کے دوران درج مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس دوران دو ہزار دو سو معاملات درج ہوئے تھے۔( ان میں وہ شامل نہیں ہیں جنہیں درج کرنے سے پولس نے انکار کر دیا تھا) سات ہزار چھ سو افراد گرفتار کیے گئے تھے جن میں سے بیشتر یہ کہہ کر چھوڑ دیے گئے کہ ان کے خلاف کوئی گواہ نہیں مل رہا ہے ۔

 ہیں۔جسٹس سری بال کرشنا نے اپنی رپورٹ میں شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے، منوہر جوشی، مدھوکر سرپوتدار اور گجانن کیرتیکر کو فسادات میں شرپسندوں کو اکسانے اور فساد برپا کرانے کا ملزم قرار دیا تھا

حکومت اور پولیس نے یہ اقدام سپریم کورٹ کے حکم پر کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ حکومت کو عدالت میں اپنے حلف نامہ کے ذریعہ بتانا ہوگا کہ آخر سری کرشنا کمیشن رپورٹ کے نفاذ میں مبینہ لاپروائی کیوں ہوئی۔

کمشنر جادھو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں سابق وزیر نسیم خان اور سماجی رضاکار تیستا سیتلواد کی جانب سے وہ کاپی ملی ہے جس میں بتایا گیا ہے کس طرح اور کن معاملات میں مبینہ لاپروائی برتی گئی۔ لیکن کمشنر کا کہنا تھا کہ ابھی تک سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری طور پر انہیں کچھ دستاویز موصول نہیں ہوئے اس لیے وہ اس رپورٹ پر کارروائی نہیں کر سکتے۔

کمشنر نے سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کے سوال کو بھی ٹال دیا۔حکومت اور پولیس کے اس اقدام سے شیوسینا اور بی جے پی لیڈران ناراض ہیں۔

وہ اسے حکومت کا سیاسی پروپیگنڈہ مانتے ہیں۔جسٹس سری بال کرشنا نے اپنی رپورٹ میں شیوسینا کےسربراہ بال ٹھاکرے، منوہر جوشی، مدھوکر سرپوتدار اور گجانن کیرتیکر کو فسادات میں شرپسندوں کو اکسانے اور فساد برپا کرانے کا ملزم قرار دیا تھا

جب سے حکومت نے کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کی بات کہی ہے، شیوسینا اور ان کی پارٹی لیڈران کی طرف سے سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ اور اس کے ایڈیٹر سنجے راؤت نے تو اپنے اخبار کے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’اگر پرانے زخم کریدنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا رد عمل بھی دیکھ لیں گے‘۔

 ٹاسک فورس نے کئی معاملات کی از سر نو جانچ کے بعد محض آٹھ کیس کی فائل کھولی تھی اس کے بعد ٹاسک فورس انتہائی سست روی سے کام کرنے لگی اور آج بھی وہی رویہ ہے
مولانہ مستقیم اعظمی

شیوسینا اور بی جے پی نے بم دھماکوں کو بابری مسجد کی شہادت اور فسادات کا رد عمل بھی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔بی جے پی کے قومی ترجمان پرکاش جاؤڑیکر کے مطابق’ سری کرشنا کمیشن ایک انکوائری کمیشن تھا اس لیے ان کی حکومت نے اس رپورٹ کو قبول نہیں کیا گیا لیکن اگر کانگریس حکومت نے اسے صحیح قرار دیا تھا تو اب تک اس پر عمل کیوں نہیں کیا‘۔

اس سیل کو قائم کرنے سے قبل حکومت نے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد کیس بند کر دیے تھے لیکن سیکولر تنظیموں، علماء اور عمائدین کی طرف سے دباؤ کے بعد اس وقت کے جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی رگھوونشی کی قیادت میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی۔

جمعیت علماء ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کے مطابق ٹاسک فورس نے کئی معاملات کی از سر نو جانچ کے بعد محض آٹھ کیس کی فائل کھولی تھی اس کے بعد ٹاسک فورس انتہائی سست روی سے کام کرنے لگی اور آج بھی وہی رویہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد