1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی پولیس کمشنر ڈی این جادھو نے کہا ہے کہ وہ انیس سو بانوے ترانوے فسادات کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کر رہے ہیں جو پرانے مقدموں کی تفتیش کرے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ کیا نئےمقدمے بھی درج کیے جا سکتے ہیں؟ پولیس کمشنر جادھو نے سیل کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس سیل کا نگران ایڈیشنل پولیس کمشنر کےدرجے کا عہدیدار ہوگا۔ہر زون کے ایڈیشنل اور ڈپٹی پولیس کمشنر کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ دیکھیں کہ ان کے زون میں فسادات کے دوران کتنے کیس درج ہوئے، کتنے کیس بند کر دیے گئے۔ پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو بھی ذہن میں رکھے کہ ملزموں کے خلاف نئے سرے سے کیس درج کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ جن پولیس سٹیشنوں میں کیس درج ہوئے ہیں، ان کی کتنی تفتیش ہوئی ہے اور اب ان کی پوزیشن کیا ہے اس بات کی بھی تفتیش کرنے کی ہدایت پولیس کمشنر نے زونل کمشنرز کو دی ہے۔ فسادات کے دوران حکومت نے خود ایک ہزار تین سو اکہترمقدمات یہ کہہ کر بند کر دیے تھےمقدمے صحیح ہیں لیکن اس میں گواہ نہیں مل رہے ہیں۔ کمشنر جادھو نے فسادات کے دوران درج مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس دوران دو ہزار دو سو معاملات درج ہوئے تھے۔( ان میں وہ شامل نہیں ہیں جنہیں درج کرنے سے پولس نے انکار کر دیا تھا) سات ہزار چھ سو افراد گرفتار کیے گئے تھے جن میں سے بیشتر یہ کہہ کر چھوڑ دیے گئے کہ ان کے خلاف کوئی گواہ نہیں مل رہا ہے ۔ حکومت اور پولیس نے یہ اقدام سپریم کورٹ کے حکم پر کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ حکومت کو عدالت میں اپنے حلف نامہ کے ذریعہ بتانا ہوگا کہ آخر سری کرشنا کمیشن رپورٹ کے نفاذ میں مبینہ لاپروائی کیوں ہوئی۔ کمشنر جادھو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں سابق وزیر نسیم خان اور سماجی رضاکار تیستا سیتلواد کی جانب سے وہ کاپی ملی ہے جس میں بتایا گیا ہے کس طرح اور کن معاملات میں مبینہ لاپروائی برتی گئی۔ لیکن کمشنر کا کہنا تھا کہ ابھی تک سپریم کورٹ کی جانب سے سرکاری طور پر انہیں کچھ دستاویز موصول نہیں ہوئے اس لیے وہ اس رپورٹ پر کارروائی نہیں کر سکتے۔ کمشنر نے سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کے سوال کو بھی ٹال دیا۔حکومت اور پولیس کے اس اقدام سے شیوسینا اور بی جے پی لیڈران ناراض ہیں۔ وہ اسے حکومت کا سیاسی پروپیگنڈہ مانتے ہیں۔جسٹس سری بال کرشنا نے اپنی رپورٹ میں شیوسینا کےسربراہ بال ٹھاکرے، منوہر جوشی، مدھوکر سرپوتدار اور گجانن کیرتیکر کو فسادات میں شرپسندوں کو اکسانے اور فساد برپا کرانے کا ملزم قرار دیا تھا جب سے حکومت نے کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کی بات کہی ہے، شیوسینا اور ان کی پارٹی لیڈران کی طرف سے سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ اور اس کے ایڈیٹر سنجے راؤت نے تو اپنے اخبار کے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’اگر پرانے زخم کریدنے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کا رد عمل بھی دیکھ لیں گے‘۔ شیوسینا اور بی جے پی نے بم دھماکوں کو بابری مسجد کی شہادت اور فسادات کا رد عمل بھی ماننے سے انکار کر دیا ہے۔بی جے پی کے قومی ترجمان پرکاش جاؤڑیکر کے مطابق’ سری کرشنا کمیشن ایک انکوائری کمیشن تھا اس لیے ان کی حکومت نے اس رپورٹ کو قبول نہیں کیا گیا لیکن اگر کانگریس حکومت نے اسے صحیح قرار دیا تھا تو اب تک اس پر عمل کیوں نہیں کیا‘۔ اس سیل کو قائم کرنے سے قبل حکومت نے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد کیس بند کر دیے تھے لیکن سیکولر تنظیموں، علماء اور عمائدین کی طرف سے دباؤ کے بعد اس وقت کے جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی رگھوونشی کی قیادت میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی۔ جمعیت علماء ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کے مطابق ٹاسک فورس نے کئی معاملات کی از سر نو جانچ کے بعد محض آٹھ کیس کی فائل کھولی تھی اس کے بعد ٹاسک فورس انتہائی سست روی سے کام کرنے لگی اور آج بھی وہی رویہ ہے۔ | اسی بارے میں فسادات سے متاثر، انصاف کے طلبگار 18 May, 2007 | انڈیا کمیشن سفارشات کے نفاذ کا مطالبہ 10 August, 2007 | انڈیا ممبئی: فرقہ وارایت کے متاثرین کی شکایت26 July, 2007 | انڈیا ہاشم پورہ فسادات کے متاثرین کی اپیل24 May, 2007 | انڈیا 1984 فسادات، تین کو عمر قید29 March, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت19 July, 2007 | انڈیا بھاگلپور قتلِ عام، چودہ کو عمرقید 07 July, 2007 | انڈیا لوگائیں کا قتل عام سامنے کیسے آیا؟21 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||