ممبئی: فرقہ وارایت کے متاثرین کی شکایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں کئی لوگ انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے مقدمات میں لوگوں کو سزا ملنے پر مطمئن ہیں وہیں پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سن بانوے اور ترانوے کے فرقہ وارانہ فسادت میں ایک ہزار سے زائد مسلمان ہلاک کر دیے گئے تھے لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں ملی۔ ایک طرف دھماکوں میں زخمی ہونے والے کیرتی ہیں جو چودہ برس بعد دھماکہ کرنے والوں کو موت کی سزا سنائے جانے پر مطمئن ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اب جنہیں سزائیں مل رہی ہیں ان میں زیادہ تر لوگ دوسروں کےہاتھوں میں کھلونا بنے تھے۔ دوسری طرف فاروق ماپکر انیس سو بانوے ترانوے کے فرقہ وارنہ فسادات کے ان ہزاروں متاثرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے انصاف کے لیے عدالتی جنگ جاری رکھی ہے۔
کیرتی کہتے ہیں کہ’بم دھماکہ کرنے والوں کو سزائیں مل رہی ہیں اور اتنی سخت کہ اب کوئی بھی انسان اس طرح کا فعل کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گا۔ لیکن یہ سب تو مہرے تھے۔ بم دھماکہ جنہوں نے کرایا وہ تو ابھی بھی آزاد گھوم رہے ہیں‘۔ کیرتی شیئر ایجنٹ تھے اور بارہ مارچ انیس سو ترانوے میں دھماکوں کے وقت وہ شیئر بازار کی عمارت میں داخل ہو رہے تھے۔ اس دھماکہ کی وجہ سے عمارت کی اوپری منزل سے شیشے ٹوٹ کر ان کے پھیپھڑوں میں گھس گئے تھے۔ کیرتی کے چالیس آپریشن ہو چکے ہیں۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ مجھے نیا جنم ملا ہے۔ لیکن ان برسوں نے مجھ سے میرا بزنس، میرے خاندان کی نیند، چین سب کچھ چھین لیا تھا‘۔ کیرتی کا کہنا ہے کہ انہیں صحیح انصاف نہیں ملا کیونکہ اصل ملزم آزاد گھوم رہے ہیں۔
پولیس نے اس وقت رپورٹ میں کہا تھا کہ نمازی مسجد میں آتشی اسلحہ کے ساتھ جمع تھے۔ پولس نے کھڑکی سے نمازیوں پر فائرنگ کی۔ نماز کے بعد نمازیوں نے دروازہ کھولا اور ان کے ہاتھ اوپر تھے اس کے باوجود پولس نے گولیاں چلائیں۔ پولس نے فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نمازیوں اور دیگر پچاس افراد کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ برسوں مقدمہ چلا اور آخرکار عدالت نے سب کو رہا کر دیا۔
فاروق کے مطابق ’اگر میں بھی چاہتا تو چپ چاپ رہائی کے بعد گھر بیٹھ جاتا لیکن میں انصاف چاہتا ہوں وردی کی آڑ میں ظلم کرنے والوں کو سبق سکھانا چاہتا ہوں۔ راہ میں مشکلیں آئی ہیں لیکن ہمت نہیں ہاری‘۔ سیوڑی کی مقامی عدالت میں کیس شروع ہو چکا ہے۔ایڈوکیٹ شکیل کے مطابق عدالت نے پولس سے کیس کے تمام کاغذات داخل کرنے کے لیے کہا ہے لیکن پولیس نے عدالت سے وقت طلب کیا ہے۔ ’پولیس کے پاس فاروق کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں ہے اور نہ ہی فائرنگ کرنے کا کوئی صحیح جواز اس لیے پولیس اب گھبرا رہی ہے‘۔ نجی بینک میں ملازم فاروق کا مقدمہ کب تک چلے گا یہ وقت پر منحصر ہے لیکن ایسے ہزارہا کیس ہیں جو فائلوں میں بند کر دیے گئے۔
شاہنواز قریشی کو عدالت نے انیس جولائی کو تین مرتبہ موت کی سزا سنائی تھی اور فاروق پاؤلے کو پانچ مرتبہ موت کی سزا ملی ہے۔ قریشی باندرہ ریکلیمیشن پر نرگس دت رہائشی کالونی میں رہتے ہیں۔ سزا سننے کے بعد ان کی بہن نجمہ نے سوال کیا ’پولیس نے میرے بھائی کو پکڑا اور عدالت نے آج موت کی سزا سنا دی لیکن ان کا کیا جنہوں نے فساد کیا، مسلمان عورتوں کی عزت لوٹی، مسلم نوجوان کو تلواروں سے کاٹ ڈالا۔ ہمارا بھی گھر لوٹا گیا، ہم بھی فسادیوں کا نشانہ بنے لیکن ہمیں انصاف نہیں ملا اور فسادی آزاد گھوم رہے ہیں‘۔ قریشی کی بیوی بہنیں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے اور کپڑے دھونے کا کام کرنے لگی ہیں۔ کیرتی اجمیرا چھوٹا بزنس کرتے ہیں اور یہ اعتراف بھی کیا کہ اگر ان کا بیٹا نہ ہوتا تو آج زندگی ان کے لیے مشکل ہو جاتی۔ہر کوئی زندگی تو جی رہا ہے لیکن کیرتی اجمیرا، فاروق ماپکر اور نجمہ جیسے ہزاروں اپنے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ اگر یہ انصاف ہے تو اتنا ادھورا کیوں ؟ | اسی بارے میں فسادات سے متاثر، انصاف کے طلبگار 18 May, 2007 | انڈیا جیل نےانہیں مُردوں سے بدتر بنا دیا24 July, 2007 | انڈیا تین کو سزائے موت، ایک کو عمر قید24 July, 2007 | انڈیا پانچ مرتبہ موت کی سزا 25 July, 2007 | انڈیا ایک اور کو پھانسی دو کو عمر قید20 July, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت19 July, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||