جیل نےانہیں مُردوں سے بدتر بنا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مجھے یہاں بار بار کیوں لاتے ہیں۔ میں نے کچھ کھایا بھی نہیں ہے۔ مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا ہے۔ اب تم مجھے کل پھر لاؤ گے۔ جج صاحب مجھ میں طاقت نہیں ہے میں نے کچھ بھی نہیں کھایا پھر بھی یہ لوگ مجھے کھینچ کر یہاں لے آئے ہیں۔‘ یہ جملے انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے سامنے اس مجرم کے ہیں جسے عدالت نے پھانسی کی سزا دے دی لیکن سزا سننے کے بعد بھی محمد اقبال شیخ کچھ سمجھ ہی نہیں پائے اور جج سے شکایت کرنے لگے کہ اب اسے ایک بار پھر کل سب اسی طرح عدالت لائیں گے۔ اقبال گزشتہ چودہ برس سے جیل میں بند ہیں۔ پانچ برس قبل ان کی ماں کی وفات ہو گئی اور تب سے اقبال اپنا ذہنی توزان کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ جج نے جیل حکام کو ان کے لیے بریڈ دودھ اور انڈہ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اقبال بمشکل بریڈ کا ایک آدھ سلائس کھا پاتے ہیں۔اس لیے وہ اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہیں ہو پاتے ہیں۔ ان کی وکیل فرحانہ شاہ کے مطابق وہ مہینوں نہاتے نہیں ہیں۔ کپڑے تک نہیں بدلتے اس لیے کپڑے پھٹ گئے ہیں۔ اقبال کی اس حالت کے بارے میں ان کے ساتھی قیدیوں کا کہنا ہے کہ ’ان کی والدہ اقبال کے لیے روزانہ گھر سے کھانے کا ڈبہ لے کر آتی تھیں۔ انتقال کے بعد اقبال نے کھانا ہی چھوڑ دیا۔ اب وہ صرف ایک ٹکڑا بریڈ کا کھا لیتے ہیں۔‘
اقبال ماضی میں تیز رفتار موٹر سائیکل سوار ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں میں پائلٹ کے نام سے مشہور تھے۔اقبال نے سہار ایئرپورٹ تک ساتھی مجرم نسیم برمارے کو پہنچایا اور اس کے بعد آر ڈی ایکس سے بھرا ایک سکوٹر دادر سٹیشن لے گئے۔ انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے ایک سو تئیس ملزمان میں سے بیشتر گزشتہ چودہ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان میں سے کئی یا تو موذی امراض کا شکار ہو چکے ہیں یا اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ کسٹم کلکٹر سومناتھ تھاپا کو دو برس قبل پھیپھڑوں کا کینسر ہو چکا ہے۔ عدالت نے تھاپا کو عمر قید کی سزا دی ہے۔ اسی طرح امتیاز گاؤٹے سن دو ہزار ایک میں ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہیں۔گاؤٹے ڈپریشن کا شکار تھے اور اس دوران علاج کے لیے انہیں سرکاری جے جے ہسپتال لے جایا جاتا تھا۔ ایڈوکیٹ شاہ اور گاؤٹے کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں غلط انجکشن کی وجہ سے انہیں یہ موذی مرض لگ چکا ہے۔ عدالت نےگاؤٹے کو بھی عمر قید کی سزا دی ہے۔ بم دھماکہ کے کلیدی ملزم ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن جو جیل میں ہیں، زبردست ڈپریشن کا شکار ہیں۔ یعقوب کے بڑے بھائی عیسٰی میمن ایک ایسی جلد کی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں جس میں بدن کے بال اور جلد جھڑنے لگتی ہے۔ مجرم ذاکر حسین کو تپ دق ہو چکا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں ہاتھ کا آپریشن ہوا لیکن غلط آپریشن کی وجہ سے ان کا سیدھا ہاتھ کام کے لائق نہیں رہا۔ اشرف الرحمن نامی مجرم کی ذہنی حالت اس قدر خراب ہو چکی تھی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے خود کو جلا لیتے تھے۔ فاروق پاؤلے نے کئی مرتبہ جیل میں خود کشی کی کوشش کی۔ داؤد فنسے کو پیٹ کا السر ہو چکا ہے۔ سمیر ہنگورا ذہنی تناؤ کی وجہ سے ذیابطیس اور دل کی بیماری کا شکار ہیں۔ مشتاق ترانی بھی ڈپریشن کا شکار ہیں۔ قاسم لاجپوریا ڈپریشن کی وجہ سے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہی نہیں ہو پاتے ہیں۔ جیل میں بھی وہ وہیل چیئر کے سہارے ہی چلتے ہیں۔ سب سے کم عمر مجرم نیاز احمد شیخ کئی مرتبہ عدالت میں غش کھا کر گر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے دماغ کی رگوں میں خون جم گیا ہے جبکہ مجرم اعجاز پٹھان کی جیل حراست کے دوران ہی موت واقع ہو چکی ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ماچس والا کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے لیے ڈپریشن سب سے خطرناک بیماری ہے۔اور قیدیوں کے لیے ڈپریشن کا ہونا لازمی ہے کیونکہ ایک تو وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں دوسرے تنہائی کا عذاب ان کی ذہنی حالت کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ ذہن منفی باتیں سوچتا ہے۔ کہیں سے امید کی کرن نظر نہیں آتی اس لیے وہ خود کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پھانسی کی سزا ملنے کے بعد ممبئی کی سینٹرل جیل سے سات قیدیوں کو پونے کی بروڈا جیل لے جایا گیا ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد ان کے بدن کے کپڑے اتار لیے گئے اور درزی نے ان کا ناپ لیا۔ اب وہ ایک مخصوص لباس پہنیں گے۔ان مجرموں کو جیل کے پھانسی سیل میں رکھا گیا ہے۔ جیل کے سپرنٹنڈنٹ راجیندر دھامنے کے مطابق جب ان قیدیوں کو الگ تھلگ ان کے سیل میں لے جایا گیا تو وہ سب بچوں کی طرح بلک بلک کر رو پڑے۔ دھامنے کے مطابق پھانسی کی سزا ہونے تک اب انہیں تنہا رہنا پڑے گا۔ مہینے میں ایک بار ہی ان کے کسی قریبی رشتہ دار سے انہیں ملنے دیا جائے گا۔اس سیل میں صرف ایک روشن دان ہوتا ہے۔آس پاس کے قیدی آپس میں صرف چیخ کر بات کر سکتے ہیں ورنہ وہ کسی کی شکل نہیں دیکھ پاتے۔ قیدیوں کو تنہا وقت گزارنا پڑتا ہے انہیں صرف مذہبی کتابیں یا ریڈیو سننے کے لیے دیا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||