فسادات سے متاثر، انصاف کے طلبگار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں انیس سو ترانوے میں ہونے والے بم دھماکے کے ملزمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں ۔ لیکن بم دھماکوں سے قبل ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرین آج بھی انصاف کے لیے ترس رہے ہیں۔ انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے بعد پولس نے ٹاڈا جیسے سخت قانون کے تحت ملزمان کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا، ایک خصوصی عدالت کی تشکیل ہوئی اور سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن ( سی بی آئی ) نے اس معاملے کی تفتیش شروع کی۔ قصور واروں کو جمعہ اٹھارہ مئی کو سزا سنائے جانے کے بعد بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتے داروں اور تمام قانون پسند شہریوں کو یقیناً اطمینان ہوا ہوگا۔ لیکن دھماکوں سے قبل ہوئے فسادات جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی، دو لاکھ سے زائد افراد نے خوف کی وجہ سے ممبئی چھوڑ دیا اور تقریباً چار سو ارب روپے کی املاک تباہ ہوئیں، لیکن کسی بھی ملزم کو آج تک سزا نہیں ہوئی۔ ہلاک ہونے والوں میں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ جب ممبئی میں فساد ہوا تو اس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی۔ حکومت نے فسادات کی تحقیقات کے لیے سری کرشنا کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن نے برسوں کی محنت کے بعد حکومت کو انیس سو اٹھانوے میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں فسادات کی وجہ بیان کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف حکومت کو کارروائی کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ کمیشن نے فسادات کے دوران پولیس کے رویہ پر بھی انگلی اٹھائی اور کئی معاملات میں انہیں فساد میں شرپسندوں کے ساتھ حصہ لینے کا قصوروار بھی پایا۔ لیکن حکومت نے قصوروار قرار دیے جانے والے اکتیس پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے انہیں ترقی دی۔ کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کے سپیشل آپریشن سکواڈ کو سلیمان عثمان بیکری میں اندر گھس کر نہتے لوگوں پر فائرنگ کرنے کا قصوروار بتایا گیا۔ سکواڈ نے بیکری سے ملحقہ مدرسہ کے مہتمم کو بھی گولی ماری تھی۔ اس کارروائی میں نو افراد ہلاک ہو ئے تھے، لیکن پولیس نے الٹا بیکری میں کام کرنے والوں اور مدرسہ میں پڑھنے والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر دیا۔ اسی طرح پولیس نے سیوڑی علاقے کی ہری مسجد میں گھس کر نہتے نمازیوں پر فائرنگ کی جس میں سات افراد کی موت واقع ہوگئی۔ اس واقعہ میں بھی پولیس نے مسجد میں موجود نمازیوں کے خلاف ہی قتل کا مقدمہ درج کر دیا۔ اس واقعہ میں پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے فاروق ماپکر کے خلاف بھی اقدام قتل کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ فاروق ایک نجی بینک میں ملازم ہیں اور اپنے وکیل شکیل احمد کے ذریعے ایک لمبی قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ فاروق کہتے ہیں ’میں نے پولیس والوں کے خلاف شکایت درج کرانے کی کوشش کی لیکن کسی نے نہ سنی، الٹا مجھے ہراساں کیا جاتا ہے کیونکہ میں اس کیس کا اہم گواہ ہوں اور پولیس کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوں ورنہ باقی لوگ تو بے چارے خوفزدہ ہو کر ہار مان گئے‘۔
فاروق کے وکیل شکیل احمد جو حقوق انسانی کے سرگرم کارکن بھی ہیں نے کہا ’عدالتی تاخیر اور پولیس کے سرد رویہ سے تنگ آ کر اب میں ممبئی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ پولیس والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو تا کہ تحقیقات ہوں اور انہیں سزا ملے‘۔ ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جسٹس ہوسبیٹ سریش اور جسٹس داؤد نے فسادات کے متاثرین کی علیحدہ شنوائی کی تھی۔ جسٹس ہوسبیٹ کے مطابق ’ایسے سینکڑوں کیس ہیں جو درج ہی نہیں کیے گئے‘۔ ان میں ایک تیس سالہ بیوہ فاطمہ بی ہیں۔ جب فسادات شروع ہوئے تو فاطمہ نے اپنے دو چھوٹے بچوں کو اپنے رشتہ داروں کے یہاں بھیج دیا۔ علاقے پریل میں، جہاں اکثریت ہندؤوں کی ہے، واقع فاطمہ کے گھر لوگ گھس آئے اور ان کی مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی۔ بعد میں مراٹھی میں کچھ لکھ کر ان کے سینے پر چٹھی رکھ دی اور انہیں گھر سے بھگا دیا۔ کسی طرح وہ چادر لپیٹ کر پولیس سٹیشن پہنچیں، جہاں پولس نے ان کی شکایت درج نہیں کی۔ فاطمہ کہتی ہیں ’میرے پاس پولیس اور غنڈوں سے لڑنے کی طاقت اور حوصلہ نہیں ہے۔ میں اب اپنے دو بچوں کے لیے سکون سے جینا چاہتی ہوں‘۔ امن کمیٹی کے سابق سیکرٹری فضل شاد کے مطابق ’حکومت کی نیت ہی خراب تھی۔ سیکولر کہلانے والی کانگریس حکومت نے صرف مسلمانوں کو بہلانے کے لیے کمیشن تو قائم کر دیا لیکن اس کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا ۔۔۔۔ سب سے شرمناک بات تو یہ تھی کہ حکومت نے ایک سرکلر جاری کیا کہ جس کے گھر میں ایک سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کے گھر میں صرف ایک مرنے والے کو معاوضہ دیا جائے گا‘۔ ایڈووکیٹ شکیل کے مطابق پولیس نے ایک ہزار دو سو سے زائد کیس یہ کہہ کر بند کر دیے کہ کیس تو صحیح ہے لیکن اس کے لیے گواہ نہیں مل رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں سزاؤں کا اعلان متوقع 09 May, 2007 | انڈیا 93 دھماکوں کے ملزمان رہا09 May, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: چار مجرم، ایک بری 12 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||