تین کو سزائے موت، ایک کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکہ کی سماعت کرنے والے ٹاڈا جج نے منگل کے روز ملزمان کو سزا سناتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ پاکستان جا کر تربیت حاصل کرنا اور معصوم شہریوں پر بموں سے حملہ کرنا ملک کے خلاف ایک جنگ تھی۔ انیس سو ترانوے کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مجرموں کے خلاف ٹاڈا قانون کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا اور اسی کے تحت چودہ برس مقدمہ چلا۔ شروع میں پولیس اور ملک کی تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) نے بم دھماکوں کو ملک کے خلاف جنگ قرار دیا تھا لیکن انیس سو پچانوے میں ملزمین پر فرد جرم عائد کرنے سے قبل اس الزام کو ہٹا دیا گیا تھا۔ منگل کو عدالت میں جج نے اپنے فیصلہ میں اس الزام کی توثیق کی۔ جج پی ڈی کوڈے نے ممبئی کی فشر مین کالونی میں دستی بم پھینکنے کے چار مجرموں کو سزا سنائی جن میں سے معین قریشی کو عمر قید، مجرم ذاکر حسین نور محمد شیخ، مجرم فیروز امانی ملک اور عبدالاختر خان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے ۔ ان چاروں مجرموں کو عدالت نے پاکستان جا کر اسلحہ چلانے کی تریبت حاصل کرنے، بم دھماکہ کی سازش اور ماہم کازوے کی فشر مین کالونی پر دستی بم پھینکنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ دستی بم کی وجہ سے وہاں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ جج کے اس فیصلہ کو سننے کے بعد مجرم فیروز امانی نے عدالت سے کہا کہ انہیں گرفتاری کے چار ماہ بعد ہی ضمانت مل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ واقعی دہشت گرد ہوتے تو ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد ملک چھوڑ کر فرار ہو سکتے تھے۔ ’لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے عدالت کے فیصلہ پر بھروسہ تھا۔ لیکن لگتا ہے کہ یہاں انصاف نہیں ملے گا۔‘ جج نے انہیں سپریم کورٹ میں اپیل کا مشورہ دیا۔ جج کے فیصلہ سے ناراض مجرم ذاکر حسین نور محمد شیخ نے کہا کہ ’یہاں تو یہی انصاف ہے کہ مسلمانوں کو جلاؤ، کاٹو اور پھر پھانسی دے دو‘۔ اس سے قبل سات مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جا چکی ہے اور آج ان تین کو موت کی سزا دینے کے بعد موت کی سزا پانے والوں کی تعداد دس ہو چکی ہے۔ پہلے تمام مجرموں نے اپنی موت کی سزا سننے کے بعد کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا لیکن آج مجرمین نے جج سے بحث بھی کی اور عدالتی سسٹم پر سوالیہ نشان بھی اٹھایا۔ پولیس کے زبردست پہرے میں جب انہیں عدالت سے باہر لے جانے لگے تب سب نے نعرہ تکبیر اللہ و اکبر کے نعرے بلند کیے۔ اب محض نو مجرموں کی سزا سنانا باقی ہے جن میں ایک اہم مجرم فاروق پاؤلے کے علاوہ سنجے دت اور ان کے تین ساتھی اور کلیدی مجرم ٹائیگر میمن خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔ سرکاری وکیل اجول نکم کے مطابق مجرمین ذاکر حسین اور فیروز امانی ملک نے انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔اجول نکم نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے ہی وہ عدالت کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آرہے تھے، وہاں پولیس حراست میں کھڑے دونوں مجرمین نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں مار ڈالیں گے۔ نکم نے کہا کہ وہ اس دھمکی کی مقامی پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائيں گے۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت19 July, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: کسٹم افسران کو سزائیں23 May, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، چار سپاہیوں کو سزا21 May, 2007 | انڈیا فسادات سے متاثر، انصاف کے طلبگار 18 May, 2007 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا پاکستان کیلیئے بھارتی موقف میں سختی15 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||