ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں انیس سو ترانوے میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں قائم کی جانے والی خصوصی ٹاڈا عدالت نے جمعرات کو مزید تین مجرموں کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس طرح اب تک موت کی سزا پانے والے مجرموں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ عدالت کے جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے مجرم اصغر مقادم، شاہنواز قریشی اور شعیب گھنسار کو سازش، دہشت گرد کارروائی، گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھر کر مختلف مقامات پر کھڑا کرنے، اس سے ہونے والی اموات، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور دھماکہ خیز اشیاء کے قانون کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے تینوں کو موت کی سزا سنائی۔ اصغر مقادم مقدمے کے اہم مفرور ملزم ٹائیگر میمن کے منیجر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان پر دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔ مقادم پر مجرم شعیب گھنسار اور شاہنواز قریشی کے ساتھ آر ڈی ایکس اور ٹائم ڈیٹونیٹر کے ساتھ ماروتی وین کو دادر میں واقع پلازہ تھیٹر کے کمپاؤنڈ میں رکھنے کا جرم بھی ثابت ہوا تھا۔ تین بج کر تیرہ منٹ پر بم پھٹنے کی وجہ سے وہاں دس افراد کی موت اور چھتیس افراد زخمی ہوئے تھے اور ستاسی لاکھ روپے کی املاک تباہ ہوئی تھیں۔ عدالت نے مقادم کو تین سوٹ کیس میں آر ڈی ایکس بھر کر انہیں شہر کے مختلف ہوٹلوں میں بھیجنے اور لوگوں میں اس کام کے بعد پیسے تقسیم کرنے کا بھی مجرم پایا گیا۔
عدالت نے مقادم کے اس بیان کو قبول نہیں کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ٹائیگر میمن کے ملازم ہونے کی وجہ سے انہیں یہ کام مجبوری میں کرنا پڑا تھا۔ عدالت نے مقادم کو تین مرتبہ موت کی سزا اور چار لاکھ پچیس ہزار روپیہ جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی۔ عدالت نے بم دھماکہ کی سازش، دہشت گرد کارروائی اور قتل کے لیے مجرم شاہنواز قریشی کو تین مرتبہ موت کی سزا اور تین لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ قریشی کو سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ مجرم شروع سے آخر تک بم دھماکہ کی سازش میں ملوث تھے۔ انہوں نے پاکستان جا کر اسلحہ کی تربیت حاصل کی تھی اور اسلحہ کی لینڈنگ سے بم دھماکہ کے آخری دن تک دہشت گردی کے کام میں حصہ لیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مجرم نے اس کام کے لیے اصغر مقادم کی ہمت بڑھائی تھی۔ وہ اس ماروتی وین کو پلازہ تک لے جانے میں شریک تھے جس کی وجہ سے دس لوگ ہلاک ہوئے۔ ممبئی کے فسادات میں شرپسندوں نے شاہنواز قریشی کا گھر جلا دیا تھا اور وہ براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ جج کوڈے نے محمد شعیب گھنسار کو دہشت گرد کارروائی کے لیے موت کی سزا اور دیگر معاملات میں مختلف سزاؤں کے ساتھ دو لاکھ پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق شعیب مقادم کے رشتہ دار ہیں اور بم دھماکہ کی اس سازش میں وہ دھماکے سے صرف ایک روز قبل شامل ہوئے۔ انہیں مقادم اپنے ساتھ اس ماروتی وین میں لے کر گئے جس میں وہ شہر کی مختلف ہوٹلوں میں آر ڈی ایکس سے بھرا ہوا سوٹ کیس رکھنے کے لیے لے جا رہے تھے۔ شعیب ماہم کی الحسینی عمارت میں آر ڈی ایکس بھرنے کے لیے موجود تھے۔ شعیب پر جامع مسجد سے کچھ دور شیخ میمن اور مرزا سٹریٹ پر آر ڈی ایکس اور ٹائم ڈیٹونیٹر سے لدا سکوٹر کھڑا کرنے کا جرم ثابت ہوا۔ جس کے پھٹنے سے سترہ لوگ مرے تھے اور 57 افراد زخمی ہوئے تھے۔
جج نے شعیب کے اقبالیہ بیان کو عدالت میں پڑھ کو سناتے ہوئے کہا کہ ’سکوٹر کھڑی کرنے کے بعد میں ناخدا محلہ کی مسجد میں گیا اور دو رکعت پڑھ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی‘۔ جج نے اس پر کہا کہ چونکہ مجرم کو یہ پتہ تھا کہ وہ ایک گناہ کر رہا ہے اس لیے اتنے معصوموں کی جان لینے کے لیے عدالت مجرم کو موت کی سزا سناتی ہے۔ اب محض سولہ مجرموں کو سزا سنانا باقی ہے جن میں سنجے دت ان کے تین ساتھی اور ٹائیگر میمن خاندان کے چار افراد شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے: مزید دو کو عمر قید17 July, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: دو مجرموں کو عمرقید 05 June, 2007 | انڈیا 93 دھماکے: کسٹم افسران کو سزائیں23 May, 2007 | انڈیا 93 ممبئی دھماکے: مزید چھ کو سزا22 May, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، چار سپاہیوں کو سزا21 May, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، پانچ کو قید بامشقت 18 May, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||