BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 May, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے، پانچ کو قید بامشقت

ممبئی میں دھماکے(فائل فوٹو)
دھماکے کے دو اہم ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے
ممئبی میں ہونے والے سن انیس سو ترانوے بم دھماکوں کی خصوصی عدالت نے کسٹم قوانین کے تحت مجرم قرار دیے گئے پانچ افراد کو تین سال قید بامشقت اور پچیس ہزار روپیہ فی کس جرمانہ کی سزا سنائی۔

تقریبا چودہ برسوں بعد ٹاڈا عدالت نے جمعہ کے روز سے بم دھماکے کےسو مجرمین کو سزا سنانے کا عمل شروع کر دیا۔

خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے مجرم رشید الوارے، شاہ جہاں شیخ دھرے، عباس داؤد شیخ دھرے، یشونت بھوئینکر اور شریف خان عباس ادھیکاری کو کسٹم قانون کے تحت تین سال قید بامشقت اور فی کس پچیس ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی۔

ان مجرمین میں سے رشید، شاہجہاں اور عباس اس بوٹ کے مالک تھے جس میں رائے گڑھ سے سمگل کیا ہوا اسلحہ اور آرڈی ایکس ساحل سے بندرگاہ پر اتارنے کے بجائے کسی خفیہ مقام تک لے جایا گیا تھا۔ اس کام میں ماہی گیر شریف اور یشونت نے ان کی مدد کی تھی۔

دھماکوں کے اہم کردار فرار ہیں
 دھماکوں کے مبینہ طور پر سازشی ذہن مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن، محمد ڈوسا، انور تھیبا اور جاوید چکنا سمیت کئی ملزمین ابھی بھی پولس کی گرفت سے باہر ہیں۔ عدالت نے تیئس ملزمین کو بری کر دیا ہے۔
جج نے کہا حالانکہ ان مجرمین کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اس میں کون سا سامان ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سامان کو ساحل پر اتارنے کے بجائے دوسری جگہ پہنچایا اور انہوں نے اس کے بدلے چالیس ہزار روپیہ رشوت لی تھی۔اس لیے ان کا جرم قابل معافی نہیں تھا۔

جج کوڈے نے کہا کہ انہوں نے مجرمین کی خستہ مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانہ کی رقم ایک لاکھ روپے سے کم کر کے پچیس ہزار روپے کر دی ہے۔

مجرمین کی وکیل دفاع فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ مجرم رشید اور شریف مقررہ سزا سے زیادہ سزا جیل میں کاٹ چکے ہیں اس لیے جرمانہ کی رقم ادا کرنے کے بعد وہ بری ہو جائیں گے لیکن مجرم عباس یشونت اور شاہجہاں کو کچھ مہینے جیل میں ہی گزارنے ہوں گے۔ سزا پا چکے مجرمین کو پونے یا ناسک جیل بھیج دیا جائے گا۔

عدالت اب پیر کے روز چند اور مجرمین کی سزا کا اعلان کرے گی۔ عدالت پہلے کسٹم، پھر اسلحہ قانون اور بعد میں ٹاڈا کے تحت مجرم قرار دیے گئے مجرمین کو سزا سنائے گی۔

قیاس کیا جا رہا ہے کہ اٹھائیس یا انتیس مئی کو سنجے دت اور ان کے تین ساتھیوں کے بارے میں عدالت فیصلہ کرے گی کہ انہیں پروبیشن آف اووفینڈرز ایکٹ کے تحت رہا کیا جائے یا اسلحہ قانون کے تحت سزا سنائی جائے۔

انیس سو ترانوے بم دھماکے ممبئی کی تاریخ میں سب سے پہلے منظم انداز میں کیے گئے دھماکے تھے۔ان دھماکوں میں دو سو ستاون افراد ہلاک اور سات سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ملک کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے اس کی تحقیقات کی تھی اور ایک سو تئیس ملزمین کے خلاف چودہ برسوں سے مقدمہ چلا آ رہا تھا۔

سی بی آئی کے مطابق ان دھماکوں میں انڈرورلڈ شامل تھا۔ان دھماکوں کے مبینہ طور پر سازشی ذہن مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم، ٹائیگر میمن، محمد ڈوسا، انور تھیبا اور جاوید چکنا سمیت کئی ملزمین ابھی بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ عدالت نے تیئس ملزمین کو بری کر دیا ہے۔

اداکار سنجے دت عدالت میں پیشی کے موقع پر’خصوصی سلوک‘
سنجے دت سے 'خصوصی سلوک' برتنے پر احتجاج
 سنجے دت نرمی: سنجے کی اپیل
اگر سنجے دت کی اپیل منظور ہو گئی تو؟
فائل فوٹو’نئی زندگی مل گئی‘
1993 بم دھماکوں کے رہا ہونے والے ملزم
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
پریا دت سالم، سنجے اور پریا
سالم، سنجے اور پریا دت کی پریشانی کیوں؟
اداکار سنجے دت1993 بم دھماکے
سنجے دت کی ضمانت میں دو دن کی توسیع
سنجے دت کے روپ
سنجے دت پہلے ہی اٹھارہ ماہ جیل کاٹ چکے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد