BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے: مزید دو کو عمر قید

انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس میں اب تک 78 مجرموں کو سزا سنائی ہے
انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمےکی سماعت کرنے والی ٹاڈا عدالت نے سکوٹر میں بم رکھنےاور سہارا ائرپورٹ پر دستی بم پھینکنے والے دو مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

مجرم امتیاز گاؤٹے پر شیکھاڑی کے ساحل پر اسلحہ کی لینڈنگ اور آر ڈی ایکس سے بھرا سکوٹر ممبئی کی مصروف گلی میں کھڑا کرنے کا جرم عدالت میں گزشتہ برس سولہ نومبر کو ثابت ہو چکا ہے۔

ٹاڈا عدالت کے خصوصی جج پرمود تاتریہ کوڈے نے آج مجرم کو دو بار عمر قید کے علاوہ دو لاکھ 77 ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی.

استغاثہ نے مجرم کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کرنے کے بجائے عمر قید کی اپیل کی تھی۔ اپنی اپیل میں استغاثہ نے کہا تھا کہ چونکہ مجرم ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہے اس لیے اسے موت کی سزا نہ دی جائے۔

جج نے اس اپیل کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت جرم ہوا تھا مجرم اس وقت اس موذی مرض میں مبتلا نہیں تھا اور اسے یہ مرض حوالات میں لگا۔

جج کا کہنا تھا کہ عدالت نے مجرم کو عمر قید کی سزا اس لیے دی ہے کیونکہ اس نے جو بم رکھا تھا وہ پھٹ نہیں سکا اور کسی کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ عدالت نے مجرم کی بیماری کے مدنظر قید بامشقت کو عام قید میں تبدیل کر دیا۔

جج کوڈے نے امیتاز کے بعد مجرم نسیم اشفاق برمارے کو عمر قید کے علاوہ دو لاکھ تیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی۔ نسیم کو عدالت نے گزشتہ برس پچیس ستمبر کو بم دھماکہ کی سازش کے لیے ہونے والے اجلاس میں حصہ لینے، پاکستان جا کر اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کرنے، موٹر وہیکل بم بنانے اور سہارا ائرپورٹ پر دستی بم پھینکنے کا مجرم قرار دیا تھا۔

انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس میں عدالت نے اب تک 78 مجرموں کو سزا سنائی ہے۔ ابھی بم نصب کرنے والے مجرموں کو سزا سنائی جانی باقی ہے۔ اس کے علاوہ ٹائیگر میمن کے خاندان کے افراد کو بھی ابھی سزا نہیں سنائی گئی ہے۔

فلم سٹار سنجے دت کے بارے میں بھی عدالت نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ دت کے بارے میں عدالتی فیصلہ پر دنیا بھر کی نظریں ہیں۔ سنجے دت کو عدالت پہلے ہی ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر چکی ہے اور انہیں صرف اسلحہ قانون کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے جس کے تحت مجرم کو پانچ سے دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دت نے پروبیشن آف اوفینڈرز قانون کے تحت بریت کی اپیل بھی داخل کی ہے جس کی سرکاری وکیل اجول نکم نے مخالفت کی ہے. ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون ’کم عمر‘جوانوں کو سدھرنے کا ایک موقع دینے کے لیے بنایا گیا ہے اور جرم کے وقت دت کی عمر تیس سال سے زیادہ تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد