BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ مرتبہ موت کی سزا

فاروق پاؤلے کا خاندان
سزا کے بعد فاروق پاؤلے کے والد اور والدہ عدالت کے باہر رو رہے ہیں
ٹاڈا عدالت نے بدھ کو 1993 کے ممبئی بم دھماکہ کے مجرم فاروق پاؤلے کو پانچ مرتبہ موت کی سزا اور دو لاکھ پچھتر ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں دی جانے والی سزاؤں میں اب تک کی یہ سب سے سنگین سزا مانی جا رہی ہے۔

پاؤلے انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے ایک ایسے مجرم تھے جن پر سب سے زیادہ الزامات تھے۔ پاؤلے پھانسی کی سزا پانے والے گیارہویں مجرم ہیں۔

انیس سو ترانوے بم دھماکہ مقدمہ کی سماعت کرنے والی مخصوص ٹاڈا عدالت کے جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو شہر کے مختلف مقامات پر بم نصب کرنے والے آخری مجرم کو سزا سنائی۔

مجرم پاؤلے طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے کٹہرے میں موجود نہ تھے۔عدالت نے سزا کا عمل اس لیے کچھ دیر تاخیر سے شروع کیا۔

پاؤلے پر بم دھماکہ کی سازش میں شروع سے ہی شامل ہونے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ پاؤلے پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان جا کر اسلحہ کی تربیت لی۔ عدالت میں پاؤلے کے خلاف جو جرم ثابت ہوئے اس کے مطابق مجرم نے دادر میں شیو سینا بھون کو اڑانے کے لیے اس کے قریب لکی پٹرول پمپ کے پاس آر ڈی ایکس سے بھرا ہوا سکوٹر رکھا ہوا تھا۔جس کے پھٹنے سے چار افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور دس افراد زخمی ہوئے تھے۔

فاروق پاؤلے کے والد
فاروق پاؤلے کو ممبئی دھماکوں کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے

پاؤلے پر ائیر انڈیا بلڈنگ کے کمپاؤنڈ میں آر ڈی ایکس سے بھری ایمبیسیڈر کار رکھنے کا بھی جرم ثابت ہوا تھا جس کے پھٹنے سے بیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور چھتیس زخمی۔

عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مجرم پاؤلے نے بم دھماکہ سے قبل دس مارچ کو مفرور ملزمان عرفان چوگلے اور سلیم مجاہد کے ساتھ ایئر انڈیا اور شیئر بازار عمارت کا معائنہ کیا اور دیکھا کہ کہاں گاڑی کھڑی کرنے سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔ جج کوڈے نے مجرم کو دو مقامات پر دہشت گردانہ کارروائی، بم دھماکہ کی سازش اور دو مقامات پر چوبیس معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پانچ مرتبہ پھانسی کی سزا سنائی۔

ٹاڈا عدالت نے اٹھارہ مئی سے اب تک بیانوے مجرموں کو سزا سنائی ہے۔ان میں گیارہ کو پھانسی کی سزا اور سترہ کو عمر قید سنائی ہے۔ اب صرف اس کیس کے اہم مفرور ملزم ٹائیگر میمن کے خاندان کے چار افراد اور فلم سٹار سنجے دت اور ان کے تین ساتھیوں کو سزا سنانا باقی ہے۔ عدالت اب مقدموں کا ستائیس جولائی کو فیصلہ سنائے گی۔اس روز عدالت نے سنجے دت اور ان کے تینوں ساتھیوں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔

بارہ مارچ انیس سو ترانوے کو شہر میں بارہ مقامات پر سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور713 زخمی ہوئے تھے۔اس کیس کے اہم ملزمین مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن سمیت تیرہ ملزمین آج بھی فرار ہیں۔ ایک سو تئیس ملزمان کے خلاف فرد جرم داخل کر کے مقدمہ شروع کیا گيا جو چودہ برس تک چلا اور اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔

مشتاق ترانی’مُردوں سے بدتر‘
سنہ ترانوے بم دھماکوں کے مجرموں کی حالت زار
فائل فوٹو’نئی زندگی مل گئی‘
1993 بم دھماکوں کے رہا ہونے والے ملزم
سزا کا وقت آ گیا؟
بمبئی دھماکے، مجرموں کو حاضری کا حکم
ممبئی کا مسلمانممبئی انتخابات
بلدیاتی انتخابات میں مسلمانوں کی کشمکش
ممبئیممبئی دھماکے، انصاف
ماضی کے فسادات کا فیصلہ کب ہوگا؟
اسی بارے میں
1993 دھماکے: عرضی مسترد
12 July, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد