BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور کو پھانسی دو کو عمر قید

فائل فوٹو
1993 کے ممبئی دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوگئے تھے (فائل فوٹو)
انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سماعت کرنے والی خصوصی ٹاڈا عدالت نے جمعہ کو ایک مجرم کو پھانسی اور دو کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اس طرح عدالت ایک سو میں سے اب تک سات مجرموں کو سزائے موت اور سولہ کو عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔

بم دھماکوں کی خصوصی عدالت کے جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے محمد اقبال یوسف کو پھانسی کی سزا اور تین لاکھ سترہ ہزار پانچ سو روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے محمد اقبال کو بارہ مقدمات میں سزا سنائی ہے۔ ان میں بم دھماکہ کی سازش، نائیگاؤں علاقہ میں آر ڈی ایکس سے بھرا ہوا سکوٹر رکھنے اور سہار
ائر پورٹ پر ساتھی مجرم نسیم برمارے کے ساتھ دستی بم پھینکنے جیسے جرم میں شامل تھے۔ محمد اقبال کو مہاراشٹر کے ساحلی علاقے سندھیری میں اسلحہ کی تربیت لینے کا بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اقبال نے جو سکوٹر رکھا وہ نہیں پھٹا تھا جس کی وجہ سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

واضح ہو کہ عدالت نے تین دن قبل نسیم برمارے کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جن کے ساتھ اقبال دستی بم پھینکنے سہار ائر پورٹ گئے تھے۔

عدالت نے جمعہ کو ایک اور اہم مجرم اور کسٹم کے سابق کلکٹر سومناتھ تھاپا کو عمر قید کی سزا اور دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

تھاپا کو عدالت نے بم دھماکہ کی سازش اور شیکھاڑی میں اسلحہ اور دھماکہ خیز اشیاء کو بغیر کسی رکاوٹ کے ساحل پر اتارنے اور انہیں شہر لے جانے میں مدد دینے کا مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت نے سنیچر کو سنجے دت کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے

تھاپا کو سن دو ہزار پانچ میں پھیپھڑے کا کینسر ہوا ہے اور اسی وجہ سے وہ ضمانت پر ہوئے تھے۔

عدالت نے بشیر احمد، عثمان غنی اور خیراللہ کو بھی عمر قید اور ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ بشیر پر بم دھماکہ کی سازش تیار کرنے، دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث ہونے، ماہم کی الحسینی بلڈنگ میں گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرنے، ماہم کازوے پر دستی بم پھینکنے کا الزام تھا۔

جج نے بشیر کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بشیر کے اس اقبالیہ بیان کو قبول کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دستی بم پھینک نہیں سکے کیونکہ وہ اس کا پن نہیں نکال سکے تھے‘۔

عدالت اب تک سو میں سے 87 مجرموں کو سزا سنا چکی ہے اور اب صرف تیرہ مجرم باقی رہ گئے ہیں جن میں اداکار سنجے دت اور ان کے تین ساتھیوں کے علاوہ میمن خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ عدالت نے سنیچر کو سنجے دت کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے لیکن سزا سنانے کا عمل منگل سے دوبارہ شروع ہو گا۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے بی بی سی کو بتایا:’شاید سنجے کے بارے میں فیصلہ سب کے آخر میں دیا جائے‘۔

عذیر93 دھماکے کی یاد
’پتہ نہیں میرا مستقبل کیا ہوگا‘
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
اداکار سنجے دت1993 بم دھماکے
سنجے دت کی ضمانت میں دو دن کی توسیع
فائل فوٹو’نئی زندگی مل گئی‘
1993 بم دھماکوں کے رہا ہونے والے ملزم
اسی بارے میں
1993 دھماکے: عرضی مسترد
12 July, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد