’سزا کا وقت آ گیا؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹاڈا عدالت نے انیس اپریل کو تمام سو مجرموں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اسی دن سے جج پرمود دتاتریہ کوڈے تمام نامزد مجرموں کو سزا سنانا شروع کریں گے۔ اس سے قبل سولہ اپریل کو جج عدالت میں زیرِ التواء تمام عرضداشتوں پر اپنا فیصلہ دیں گے۔ اسی عدالت کے سامنے فلم سٹار سنجے دت نے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کوئی عادی مجرم نہیں اور انہوں نے اسلحہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کے لیے لیا تھا اس لیے انہیں جیل بھیجنے کی بجائے پروبیشن آف اوفینڈر ایکٹ کے تحت رہا کیا جائے اور ان کے اخلاق کی رپورٹ کے لیے کسی افسر کو نامزد کیا جائے۔ عدالت سنجے دت کو پہلے ہی ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر چکی ہے اور انہیں صرف اسلحہ قانون کے تحت ہی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ دت کی وکیل فرحانہ شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت دت کی اپیل پر سولہ اپریل کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ عدالت کے سامنے 69 مجرمان کی بھی اپیل ہے جس میں انہوں نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ ان کے ساتھ بھی دت کی ہی طرح نرمی برتی جائے کیونکہ وہ بھی عادی مجرم نہیں ہیں اور انہوں نے انتہائی مجبوری میں حالات کا شکار ہو کر یہ قدم اٹھایا تھا۔ ان افراد کی جانب سے عدالت میں سپریم کورٹ کے وکیل مشتاق احمد نے جرح کے دوران کہا تھا کہ ان مجرموں کو اسلحہ کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ ان کے گھر محفوظ نہیں تھے جبکہ دت کے گھر پو تو پھر بھی پولیس کا پہرہ تھا۔
عدالت 68 مجرموں کی اس عرضداشت پر بھی فیصلہ سنائے گی جس میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالت ان کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی تو انہیں پھر ہٹلر کے دور کی طرح گیس چیمبر میں ڈال کر ایک ساتھ موت کی سزا دے دی جائے۔ ممبئی میں انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے جبکہ کروڑوں کی املاک تباہ ہوئی تھیں۔ پولیس نے یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کیا تھا اور اب دھماکوں کے چودہ برس بعد مجرموں کو سزا سنائی جائے گی۔ سی بی آئی نے 44 مجرموں کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر بم نصب کرنے اور بم دھماکہ کی سازش میں حصہ لینے والے مجرمان ہیں۔ دریں اثناء حقوق انسانی کے رضاکار وکیل کنجو رمن نے بھی عدالت میں ایک تحریری درخواست داخل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹاڈا کے تحت گرفتار یہ قیدی چودہ برس سے جیل میں ہیں اس لیے انہیں پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ پہلے سے ہی قید کی سزا بھگت رہے ہیں اور ایک جرم میں دوبار سزا نہیں دی جا سکتی۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکوں کے مقدمے میں نیا موڑ12 March, 2007 | انڈیا سنجے دت کے بعد متعدد اپیلیں07 March, 2007 | انڈیا ’سنجے سےخصوصی سلوک کیوں‘06 February, 2007 | انڈیا سنجے دت کی رحم کی درخواست 16 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||