BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 May, 2007, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشم پورہ فسادات کے متاثرین کی اپیل
ہندوستانی مسلمانوں کو فسادات کا سامنا رہا ہے
بیس برس پہلے ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل واقعہ کے متاثرین، مقتول کے رشتے دار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے لکھنؤ میں معلومات کے حق کے قانون کے تحت 615 درخواستیں داخل کی ہیں۔

ان لوگوں نے یہ درخواستیں ریاستی وزارت داخلہ اور پولیس محکمہ میں داخل کی ہیں۔ درخواست دہندگان نے حکومت سے یہ جانکاری مانگی ہے کہ فسادات کی سی آئی ڈی جانچ کو منظر عام پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ اب تک حکومت نے قاتلوں کو کیا سزا دی ہے اور ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے۔

درخواست دہندگان کا مطالبہ ہے کہ انہیں یہ بتایا جائے کہ کن افسروں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے اور کیوں نہیں کی گئی ہے۔ یہ ساری تفصیلات دی جائیں اور ان تمام تفصیلات کی کاپی حکومت درخواست دہندگان کو دستیاب کرائے۔

دو درخواست اس معاملے کی وکیل ورندا گروور نے داخل کی ہیں۔ درخواست حاصل کرنے والے پولیس اہلکار ڈی سی پانڈے نے کہا کہ وہ تمام جانکاری درخواست دہندگان کو ایک مہینے کے اندر دستیاب کرا دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان سے جو معلومات مانگی گئی ہیں وہ مختلف محکموں سے منسلک ہیں اور اس سلسلے میں تمام اقدام جلد از جلد اٹھائے جائیں گے۔

پولیس کو ان تفصیلات کو اکٹھا کرنے کے لیے محکمۂ سی آئی ڈی، داخلہ، پولیس اور پی اے سی سے رابطہ کرنی ہوگی۔

بائيس مئی کو مسلح پی اے سی کے جوانوں نے میرٹھ کے ہاشم پورہ محلہ میں چھ سو چوالیس افراد کو گرفتار کیا جو سبھی مسلمان تھے۔ ان میں سے تقریبا پچاس مسلمانوں کو جن میں بیشتر نوجوان تھے، ایک نہر کے نزدیک لے جا کر پی اے سی کے جوانوں نے مبینہ طور پر گولی مار کر نہر میں پھینک دیا تھا۔ ان میں سے پانچ گولی لگنے کے بعد بھی زندہ بچ نکلے تھے جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔

اس واقعہ میں پی اے سی کے انیس جوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیا گيا ہے جن میں قتل، قتل کی کوشش کرنا، اغواء کرنے کے الزامات ہیں۔

پی اے سی کے اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈی پی ایس سدھو نے بتایا کہ جن پی اے سی جوانوں پر مقدمات ہیں ان میں ایک کا انتقال ہوچکا ہے ۔ایک ریٹائر ہو چکے ہیں اور چھ کا اس محکمہ سے تبادلہ ہو چکا ہے۔

گودھرا رپورٹ
سیاسی جماعتوں کے لئے مقابلے کا نیا موضوع
گودھراگودھرا 5 سال بعد
ہلاک ہونیوالوں میں امتیاز مسلسل برقرار
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
اسی بارے میں
گجرات:11 افراد کو عمر قید
14 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد