لوگائیں کا قتل عام سامنے کیسے آیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں ان چودہ افراد کو آئندہ ہفتے سزائیں سنائی جائیں گی جنہیں بھاگلپور میں ایک سو سولہ مسلمانوں کے قتل عام سےمتعلق مقدمات میں قصوروار پایا گیا ہے۔ بھاگلپور کی ایک عدالت نےاکتوبر1989 کے اس واقعہ پر پیر کو جب اپنا فیصلہ سنایا تو متاثرہ پینتالیس خاندانوں میں سے صرف دو کے اہل خانہ ہی موجود تھے۔ باقی یا تو فسادات میں قتل کر دیے گئے یا بعد میں ہمیشہ کے لیے گاؤں سے کہیں اور چلے گئے۔ سزائیں 27 جون کو سنائی جائیں گی۔ یہ واقعہ ستائیس اکتوبر کو لوگائیں گاؤں میں پیش آیا تھا جب ہندو مسلم فسادات کے دوران ایک سو سولہ مسلمانوں کو قتل کرکے کھیت میں دفن کردیا گیا تھا اور وہاں گوبھی اگادی گئی تھی۔ پچیس دنوں تک اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو سکی، لیکن جب وہاں گدھ جمع ہونا شروع ہوئے، تو شک پڑا کہ کوئی بڑی واردات ہوئی ہے۔ ایک سرکاری افسر اشوک کمار سنگھ نے، جو اس وقت بھاگل پور میں ایڈیشنل ڈسٹرک مجسٹریٹ تھے اور امدادی کاموں پر مامور تھے، لوگائیں گاؤں کے ایک قریبی گاؤں میں کچھ لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ وہاں کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ اشوک سنگھ لوگائیں گئے اور جگدیش پور تھانے کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر رام چندر سے معلومات کی لیکن انہوں نے اس بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ لیکن درختوں پر گِدھوں کے ہجوم نے رام چندر کے بیان کی قلعی کھول دی۔ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے کنویں کی تلاشی اور زمین کی کھدائی شروع کرائی اور پھر گوبھی کے کھیت سے ایک سو آٹھ لاشیں نکلیں۔
بھاگل پور فسادات کے تحقیقاتی کمیشن نےاپنی رپورٹ میں بھی اس واقعہ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں پولیس انسپکٹر رام چندر کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے فسادیوں کو اکساتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچنا چاہیے۔ حملہ آوروں کی تعداد تقریباً چار ہزار تھی جو ہتھیاروں سے لیس ہوکر قریبی گاؤں آئے تھے اور نو گھنٹوں تک قتل عام ہوتا رہا۔ عدالت نے جن لوگوں کو قصوراور ٹھہرایا ہے ان میں رام چندر بھی شامل ہیں۔ جس روز لوگائیں میں قتل عام ہوا تھا اسی روز چندیری گاؤں میں ایک سو سے زائد مسلمانوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو تالاب میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس واقعہ میں صرف ایک لڑکی ملکہ بانو زندہ بچی تھیں جس کا پیر تلوار سے کٹ گیا تھا۔ اس معاملے میں قصور واروں کو سزا مل چکی ہے۔
بھاگل پور میں تقریباً دو ماہ تک فساد جاری رہا اور ایک سو پچانوے گاؤں اس کی زد میں آئے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزار بہتر لوگ ہلاک ہوئے، گیارہ ہزار پانچ سو گھر تباہ کیے گئے اور اڑتالیس ہزار لوگ بے گھر ہوگئے۔ اس کے علاوہ اڑسٹھ مساجد اور بیس مزاروں کو منہدم کیا گیا اور چھہ سو پاور لوم اور سترہ سو ہینڈلوم جلاکر خاک کر دیے گئے۔ بعد میں آٹھ سو اٹھاسی کیس درج کئے گئے لیکن ناکافی ثبوت کی بنیاد پر زیادہ تر کو داخل دفتر کر دیا گیا اور صرف ایک سو بیالیس ایف آئی آر زیر تفتیش آئیں۔ ان میں کل بارہ سو تراسی لوگوں کو ملزم بنایا گیا لیکن ابھی تک صرف دوسو لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں اقلیتوں کے لیے 15 نکاتی منصوبہ22 June, 2006 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا ’سچ جھوٹ ٹیسٹ سےانکار‘14 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||