’سچ جھوٹ ٹیسٹ سےانکار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست گجرات کی ایک عدالت نے ’سہراب الدین فرضی تصادم‘ معاملے کے اہم ملزم ڈی جی ونزارا کا نارکو اینالسز ٹیسٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ریاستی تفتیشی ادارے سی آئی ڈی نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث تین سینئر پولیس افسروں کا نارکو ٹیسٹ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ سہراب الدین کے فرضی تصادم معاملے میں ڈي جی ونزارا سب سے اہم ملزم ہیں۔ ان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ چونکہ ان کے مؤکل امراضِ قلب میں مبتلا ہیں اس لیے ان کا نارکو ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔ نارکو ٹیسٹ میں بیان کے دوران ملزم کو مختلف آلات لگا کر سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جمعرات کو ان افسروں کا پولیس ریمانڈ بھی ختم ہوچکا ہے اور اب انہیں جیل بھیج دیا جائےگا۔ انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ ڈی جی ونزارا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راج کمار پنڈیان کاتعلق گجرات پولیس سے ہے جبکہ تیسرے افسر دنیش کمار کا تعلق راجستھان پولیس سے ہے۔
ان تینوں کو ’فرضی تصادم‘ میں ایک مسلم لڑکے اور ان کی بیوی کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا۔ اس الزام کے تحت انہیں معطل بھی کیا جاچکا ہے۔ اس معاملے کی تفتیش گجرات کی ہی ایک سینئر پولیس افسر گيتا جوہری کر رہی ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد شروع کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی حتمی رپورٹ جولائی میں طلب کی ہے۔ یہ واقعہ نومبر دو ہزار پانچ کا ہے، جس ميں سہراب الدین کو لشکر طیبہ کا دہشتگرد قرار دے کر احمد آباد میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گيا تھا۔ ان کی ہلاکت کے چند روز بعد ان کی بیوی کوثر بی کو بھی ایک اور جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس واقعہ کے بعد مقتول سہراب الدین کے ایک اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے ہلاک کردیا تھا۔ |
اسی بارے میں پولیس مقابلہ: رپورٹ عدالت میں14 May, 2007 | انڈیا زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ05 May, 2007 | انڈیا پولیس افسر جیل میں غیر محفوظ04 May, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: مزید پولیس اہلکار گرفتار03 May, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||