BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سچ جھوٹ ٹیسٹ سےانکار‘
 پولیس
ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم پولیس افسروں کو جیل بھیج دیا جائےگا
ریاست گجرات کی ایک عدالت نے ’سہراب الدین فرضی تصادم‘ معاملے کے اہم ملزم ڈی جی ونزارا کا نارکو اینالسز ٹیسٹ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ریاستی تفتیشی ادارے سی آئی ڈی نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث تین سینئر پولیس افسروں کا نارکو ٹیسٹ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

سہراب الدین کے فرضی تصادم معاملے میں ڈي جی ونزارا سب سے اہم ملزم ہیں۔ ان کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ چونکہ ان کے مؤکل امراضِ قلب میں مبتلا ہیں اس لیے ان کا نارکو ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔

نارکو ٹیسٹ میں بیان کے دوران ملزم کو مختلف آلات لگا کر سچ اور جھوٹ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

جمعرات کو ان افسروں کا پولیس ریمانڈ بھی ختم ہوچکا ہے اور اب انہیں جیل بھیج دیا جائےگا۔ انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سربراہ ڈی جی ونزارا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راج کمار پنڈیان کاتعلق گجرات پولیس سے ہے جبکہ تیسرے افسر دنیش کمار کا تعلق راجستھان پولیس سے ہے۔

سپریم کورٹ احکامات
 معاملے کی تفتیش گجرات کی ہی ایک سینئر پولیس افسر گيتا جوہری کر رہی ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد شروع کی گئی تھی

ان تینوں کو ’فرضی تصادم‘ میں ایک مسلم لڑکے اور ان کی بیوی کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا۔ اس الزام کے تحت انہیں معطل بھی کیا جاچکا ہے۔

اس معاملے کی تفتیش گجرات کی ہی ایک سینئر پولیس افسر گيتا جوہری کر رہی ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد شروع کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی حتمی رپورٹ جولائی میں طلب کی ہے۔

یہ واقعہ نومبر دو ہزار پانچ کا ہے، جس ميں سہراب الدین کو لشکر طیبہ کا دہشتگرد قرار دے کر احمد آباد میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گيا تھا۔

ان کی ہلاکت کے چند روز بعد ان کی بیوی کوثر بی کو بھی ایک اور جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس واقعہ کے بعد مقتول سہراب الدین کے ایک اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے ہلاک کردیا تھا۔

 شمیمہ’ کیسے جیا جائے‘
’دہشتگرد لڑکی‘ کا خاندان کیا کرے؟
گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
 فرضی تصادم ميں ملوث ہونے کے الزام میں تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے تین پولیس افسر گرفتار
فرضی تصادم معاملے ميں تین پولیس اہلکار گرفتار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد