پولیس مقابلہ: رپورٹ عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات میں حکومت نے نومبر 2005 میں ہونے والے ایک ’فرضی‘ پولیس مقابلے کے متعلق اپنی رپورٹ پیر کے روز سپریم کورٹ کو سونپ دی۔ سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے گجرات حکومت کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ پولیس مقابلے کے متعلق رپورٹ پندرہ مئی سے پہلے عدالت کو سونپیں۔ یہ واقعہ نومبر 2005 میں پیش آیا تھا جس میں گجرات اور راجستھان پولیس کے تین اعلیٰ افسران نے سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔ مقتول سہراب الدین کے بھائی نے سپریم کورٹ سے گزشتہ جمعہ کو اپیل کی تھی کہ اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارے سی بي آئی سے کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہيں گجرات کی حکومت پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ معاملے کی منصفانہ اور آزاد انکوائری کرا سکتی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ عدالت رپورٹ کے مطالعہ کے بعد منگل کو یہ فیصلہ کرےگی کہ معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے یا نہیں۔ گجرات حکومت پہلے ہی سپریم کورٹ میں یہ اعتراف کر چکی ہے کہ سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کو بھی پولیس نے نومبر دو ہزار پانچ میں زندہ جلاکر قتل کردیا تھا اور ان کی باقیات کو دریا میں بہا دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سی آئی ڈی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے مقتول سہراب الدین کے ایک اور دوست تلسی رام پرجاپتی کو بھی ایک فرضی تصادم میں ہلاک کردیا تھا لیکن حکومت نے اس بارے میں عدالت کو کچھ بھی نہیں بتایا ہے۔ پولیس مقابلے کے سلسلے میں تین اعلیٰ پولیس افسران ڈپٹی انسپکٹر آف پولیس ڈی جے ونجارا، سپریٹینڈینٹ آف پولیس راجکمار پنڈیان اور ایم این دینش سمیت کئی جونیئر پولیس افسران گرفتار ہیں۔ ونجارا اور پنڈیان کو معطل کیا جا چکا ہے۔ | اسی بارے میں زیرِ حراست پولیس افسران کی معطلی06 May, 2007 | انڈیا مقابلے میں پاکستانی شہری ہلاک22 August, 2006 | انڈیا ’وہ خاندان کیسے جی سکتا ہے‘06 May, 2007 | انڈیا گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ05 May, 2007 | انڈیا پولیس افسر جیل میں غیر محفوظ04 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||