بھاگلپور قتلِ عام، چودہ کو عمرقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ سال پہلے بھاگلپور کے لوگائیں گاؤں میں ایک سو سولہ مسلمانوں کے قتل کے سلسلے میں مجرم قرار دیےگئے چودہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا پانے والا ایک مجرم جے پرکاش فرار ہے جبکہ باقی تیرہ کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ چوبیس اکتوبر سنہ انیس سو نواسی میں ہونے والے اس قتل عام کے سلسلے میں گزشتہ اٹھارہ جون کو مقامی عدالت نے چوبیس ملزمان میں سے چودہ کو مجرم قرار دیا تھا اور سزا کے لیے ستائیس جون کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ تاہم ایک ملزم جے پرکاش منڈل کے مبینہ طور پر اغواء ہونے کی شکایت کے بعد سزاؤں کا اعلان سات جولائی تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب بھاگلپور کے ایس پی جی ایس گنگوار کے مطابق جے پرکاش منڈل فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سنہ انیس سو نواسی میں بھاگلپور میں بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جن میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ لوگائیں میں مسلمانوں کا قتل اس لیے بھی لوگوں کے ذہن میں تازہ ہے کیونکہ وہاں مقتولین کی لاشیں ایک کھیت میں دفن کر کے وہاں سبزیاں لگا دی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں بھاگل پور فساد: سزائیں مؤخر27 June, 2007 | انڈیا لوگائیں کا قتل عام سامنے کیسے آیا؟21 June, 2007 | انڈیا بھاگلپور فسادات: چودہ مزید مجرم18 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||