بھاگلپور فسادات: چودہ مزید مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ریاست بہار کے بھاگلپور ضلع کی ایک مقامی عدالت نے 1989 کے ہندو مسلم فسادات کے سلسلے میں چودہ افراد کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان فسادات کے دوران چوبیس اکتوبر انیس سو نواسی میں بھاگلپور کے لوگائی گاؤں میں ایک سو سولہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ ان چودہ افراد کو اسی واقعہ کے لیے مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں اب تک مجموعی طور پر 24 افراد کو قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے جن میں سے دو کی موت ہوچکی ہے۔ عدالت آئندہ 27 جون کو مجرمان کی سزاؤں کا تعین کرے گی۔ پولیس کے مطابق1989 میں بھاگلپور کے مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات میں ایک ہزار باسٹھ افراد مارے گۓ تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ فسادات کے بعد ہزاروں مسلمانوں نے پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں پناہ لی تھی۔ 1989 کے بھاگلپور ہندو مسلم فسادات ہندؤں کے ایک مذہبی جلوس پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ فسادات کے بعد پولیس نے کل 866معاملے درج کۓ تھے اور اب تک 43 معاملوں میں 274 افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ بھاگلپور ہندو مسلم فسادات کے نقطہ نظر سے حساس ضلع ہے۔ یہاں 1967،1946،1936،1924میں مذہبی فسادات ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں بھاگلپور فسادات: 10 ملزمان کو سزا12 May, 2005 | انڈیا بھاگلپور فسادات کی تحقیقات کا حکم24 February, 2006 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا 1984 فسادات، تین کو عمر قید29 March, 2007 | انڈیا علیگڑھ فسادات: یو پی میں ریڈ الرٹ07 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||