BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھاگلپور فسادات: 10 ملزمان کو سزا

بھارت کے فسادات (فائل فوٹو)
بھاگپور کے فسادات کو بدترین قرار دیا جاتا ہے
سولہ برس قبل بھاگلپور میں ہوئے بدرترین فرقہ وارانہ فسادات کے مقدمے میں عدالت نے دس ملزامان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج نونیت کمار نے پانچ مسلمانوں کے قتل کے سلسلے میں بتیس ملزمان میں سے دس پر جرم ثابت ہونے پر جمعرات کو فیصلہ سنایا ہے۔

استغاثہ کے وکیل قمرالرحمن نے بتایا کہ چودہ نومبر سن 1989 کو بھاگلپور کے سلطان گنج تھانے میں قمرگنج گاؤں پر سینکڑوں افراد نے حملہ کیا تھا جس میں پانچ مسلمان مارے گۓ تھے۔

حملہ آوروں نے گاؤں میں گھس کر گھروں کو آگ لگا دی تھی اور انہیں روکنے کی کوشش کرنے والی پولیس پر بھی ہجوم سے گولی چلائی گئی تھی۔

اس معاملے میں کل باون لوگ شامل تھے جس میں سےدس کو سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں سے بتیس پر چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ پانچ ملزمان ابھی بھی فرار ہیں اور چار کا دوران سماعت انتقال ہو گیا ہے۔ باقی تیرہ کو عدالت نے رہا کر دیا۔

استغاثہ کے وکیل نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جبکہ وکیل صفائی نے فیصلے کا مطالعہ کر کے ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی بات کہی ہے۔

مسٹر قمرالرحمن نے بتایا کہ فسادات کے مقدمے کی مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے سماعت کافی سست روئی سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی کم از کم 27 ایسے مقدمے ہیں جن کی سماعت مکمل ہونی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف جاری وارنٹ پر پولیس کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اسی لیے عدالت میں گواہ پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

بعض معاملات تو ایسے ہیں کہ جن میں سرکاری ملازمین گواہ ہیں لیکن وہ گواہی دینے عدالت نہیں آتے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کی لاپرواہی کی ایک مثال لونگائی کا معاملہ ہے جہاں 120 لوگوں کو قتل کر دیاگیا تھا اور پولیس نے گوبھی کے کھیت سے لاشیں برآمد کی تھیں۔ اس معاملہ میں ایک ڈپٹی سپریٹینڈینٹ آف پولس کی گواہی کے لیے ڈھائی برس انتظار کرنا پڑا تھا۔

مسٹر قمراالرحمن کے مطابق اب تک 52 معاملوں میں 322 ملزمان کو سزا سنائی گئ ہے۔ قمرگنج معاملہ سے پہلے چندیری کے واقعے میں 16 ملزان کو آج سے چار برس پہلے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھاگلپور فسادات میں تقریباً دو ہزار لوگ مارے گئے تھےجن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ شمالی ہندوستان میں بھاگلپور کے فسادات کی ملک میں کوئی مثال نہیں ہے۔ علاقے کے لوگوں کے ذہنوں اور نفسیات پر اسکے اتنے گہرے اثرات مرتب ہوئے تھے کہ خوف سے بڑی تعداد میں لوگ بنگال ہجرت کر گئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد