1984 فسادات، تین کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک ذیلی عدالت نے سنہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں ملوث تین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان افراد پر ایک ہی خاندان کے تین افراد کو زندہ جلانےکا الزام تھا۔ سنہ انیس سو چوراسی میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جن میں دو ہزار سے زیادہ سکھ ہلاک ہوئے تھے۔ عدالت نے پرساد بھاردواج، آرپی تیواری اور جگدیش گری کو عمر قید کے ساتھ ساتھ پانچ پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے جبکہ دو ملزمان سورج گیری اور کملیش نامی ایک خاتون کو ناکافی ثبوتوں کے سبب بری کردیا گيا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی ہرمیند کور نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کے شوہر نرنجن سنگھ کو فسادیوں نے یکم نومبر 1984 کو مار پٹائی کے بعد زندہ جلا دیا تھا جبکہ اگلے دن ملزمان نے ان کے سترہ سالہ لڑ کے گوپال سنگھ اور داماد مہندر سنگھ کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ مقتول نرنجن سنگھ دلی کے علاقے شاہدرہ کے ایک تھانے میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ مقدمہ 1996 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب فسادت میں زندہ بچ نکلنے والی ہرمیند کور نے فسادات کی تفتیش کرنے والی بنرجی کمیٹی کے سامنے ایک حلف نامہ پیش کیا تھا۔ خیال رہے کہ 1984 کے سکھ کش فسادت میں اس سے پہلے بھی کئی افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے اور ابھی بھی کئی معاملے عدالت میں زیر غور ہیں۔1984 میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے سکھ کش فسادات ميں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں سکھ کش فسادات، تین افراد مجرم26 March, 2007 | انڈیا حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان14 July, 2005 | انڈیا خودکش سکھ حملہ آور گرفتار16 July, 2005 | انڈیا سکھوں کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں05 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||