سکھوں کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کی اثتغاثہ نے ایئرانڈیا کی پرواز میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والے 331 افراد کے عزیزوں سے کہا ہے کہ وہ اس مقدمے میں دو سکھ علیحدگی پسندوں کو بری کئے جانے کے خلاف اپیل نہیں کریں گے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کینیڈا کے شہری ریپو دمن سنگھ ملک اور عجیب سنگھ کے خلاف نئے سرے سے اپیل میں کیس جیتنے کے امکانات ہیں۔ مارچ میں جج نے حکم دیا تھا کہ کیس میں گواہ مضبوط نہیں ہیں اور عدالت میں ملزمان کے خلاف پیش کی جانے والی شہادتیں نا کافی ہیں۔ اس فیصلے سے متاثرہ کنبے حیران رہ گئے تھے اور انہوں نے پبلک انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ استغاثہ کے ترجمان جیفریگوال کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا بغور جائزہ لینے کے بعد ایسا کوئی قانونی نکتہ نظر نہیں آتا جس کی بنا پر اعلیٰ عدالت اس فیصلے کو بدل دے گی۔ قبل ازیں استغاثہ نے ہلاک شدگان کے رشتےداروں کو ایک ای میل پیغام میں لکھا تھا کہ انہوں نے اس فیصلے کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس مشکل نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کیس میں آگے اپیل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ تاہم ایئرانڈیا کی پرواز میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والے 331 افراد کے رشتےداروں نے اس فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کے رشتے دار سرجیت سنگھ کالسی نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ’دنیا کے کسی دوسرے ملک میں کیا ایسا ممکن ہوتا؟ ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے‘۔ اس حملے میں اپنی بھابی، بھتیجی اور بھتیجے کو کھونے والے گردیال سدھو کا کہنا تھا ’یہ ہمارے لئے بہت دکھ کی بات ہے ہمیں امید تھی کہ ان ہلاکتوں کے لئے کسی کو تو سزا ہوگی۔ لیکن اب ایسی کوئی امید باقی نہیں بچی‘۔ جون 1984 میں بھارتی افواج نے سکھ علیحدگی پسندوں کو نکالنے کے لئے گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اکتوبر 1984 میں ملک کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظ نے قتل کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 3000 سکھ مارے گئے تھے۔ جون 1985 میں مونٹریال سے لندن آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز کو بم سے اڑا دیا گیا جس میں سوار 329 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اور مارچ 2005 کو ریپو دمن سنگھ ملک اور عجیب سنگھ کو اس مقدمے میں بری کر دیا گیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ حملہ 1984 میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی افواج کے حملے کا بدلہ لینے کے لئے کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||