سکھ کش فسادات، تین افراد مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک مقامی عدالت نے دلی میں سنہ 1984 میں ہونے والے کے سکھ کُش فسادات کے لیے تین افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔ ان افراد کو بدھ کو سزا سنائی جائے گی۔ یہ مقدمہ بائیس سال قبل ہونے والے فسادات میں ایک ہی کنبے کے تین افراد کی ہلاکت کا ہے۔ اس معاملے میں ہرپرساد بھاردواج، آر پی تیواری، سورج گیری ، جگدیش گیری اور ایک خاتون کملیش سیمت پانچ ملزمان تھے۔ یہ افراد فسادات کے دوران مبینہ طور پر اس مشتعل ہجوم کی قیادت کر رہے تھے جس کی وجہ سے مدعا الیہ کے تین رشتہ دار ہلاک ہوگئے تھے۔ ان ملزمان پر تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت قتل، ڈکیتی اور فسادات بھڑکانے کا الزام تھا۔ عدالت نے کملیش اور سوج گیری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعی ہرمیند کور نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان کے شوہر نرنجن سنگھ کو فسادیوں نے یکم نومبر 1984 کو مار پٹائی کے بعد زندہ جلا دیا تھا جبکہ اگلے دن ملزمان نے ان کے سترہ سالہ لڑ کے گوپال سنگھ اور داماد مہندر سنگھ کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ مقتول نرنجن سنگھ دلی کے علاقے شاہدرہ کے ایک تھانے میں ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ مقدمہ 1996 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب فسادت میں زندہ بچ نکلنے والی ہرمیند کور نے فسادات کی تفتیش کرنے والی بنرجی کمیٹی کے سامنے ایک حلف نامہ پیش کیا تھا۔ اس معاملے میں سابق مرکزی وزیر ایچ کے ایل بھگت بھی ملزم تھے لیکن ثبوت کی کمی وجہ سے انہيں بری کر دیا گيا تھا۔ خیال رہے کہ 1984 کے سکھ کش فسادت میں اس سے پہلے بھی کئی افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے اور ابھی بھی کئی معاملے عدالت میں زیر غور ہیں۔1984 میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے سکھ کش فسادات ميں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان14 July, 2005 | انڈیا خودکش سکھ حملہ آور گرفتار16 July, 2005 | انڈیا سکھوں کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں05 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||