بھاگل پور فساد: سزائیں مؤخر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھاگل پور میں ایک سو سولہ مسلمانوں کے قتل عام کے مقدمے میں اب سزائیں سات جولائی کو سنائی جائیں گی۔ اس سے قبل عدالت نے سزائیں سنانے کے لیے بدھ کا دن مقرر کیا تھا لیکن جج نے اپنا فیصلہ مؤخر کر دیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک مجرم جے پرکاش منڈل کے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کی شکایت کے بعد کیا گیا ہے۔ لیکن مقامی پولیس سٹیشن کے انچارج ایس کے سنہا کے مطابق انکے پاس مسٹر منڈل کے اغوا یا لا پتہ ہونے کی کوئی شکایت نہیں پہنچی ہے۔ ان کے مطابق جے پرکاش منڈل فرار ہیں اور انکی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قتل عام کا یہ واقعہ بھاگل پور میں ہندو مسلم فسادات کے دوران لوگائیں گاؤں میں چوبیس اکتوبر سن انیس سو نواسی کو پیش آیا تھا۔ فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔
اس برس اٹھارہ جون کو مقامی عدالت نے چوبیس ملزمان میں سے چودہ کو مجرم ٹھہرایا تھا۔ چوبیس ملزمان میں چار فرار بتائےجاتے ہیں جبکہ چھ کی موت ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھاگل پور اور خاص کر لوگائیں میں معمولی کشیدگي پیدا ہوگئی ہے۔اور بعض ہندو شدت پسند تنظیمں سرگرم ہیں۔ بھاگل پور فساد کے ایک مجرم کامیشور یادو، جس کے خلاف زیادہ تر مقدمات بند کئے جاچکے ہیں، کہتے ہیں کہ لوگائیں معاملے میں انصاف نہیں ہورہا ہے۔ سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشدنے تو باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ذیلی عدالت کے فیصلہ کوہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ بھاگل پور شہر سے بیس کلو میٹر دور لوگائیں میں اب صرف دو مسلم خاندان ہیں جو اس لیے زندہ بچ گئے تھے کیوں کہ وہ اس دن وہاں موجود نہیں تھے۔ دونوں خاندان نہایت ہی مفلسی اور خوف میں جی رہے ہیں۔ فساد کے دوران گاؤں میں مارے گئے مسلمانوں کی زمینوں اور مکانات پر قبضہ ہوگیا تھا جو ابھی تک جارہی ہے۔
گاؤں میں ایک ملزم کے رشتہ دار شیام سندر منڈل نے کہا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا ہے اور گاؤں کے بے قصور لوگوں کو اس کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا ہے کہ انہوں نے جسٹس این این سنگھ کی سربراہی میں جو کمیشن قائم کیا ہے اس کی اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ فساد زدگان کی زمین جائداد پر جبراً قبضہ یا انہیں غلط ڈھنگ سے خریدنے کی تحقیقات کرے۔ ساتھ ہی جن لوگوں کی املاک ہے انہيں یا ان کے پسماندگان کو واپس دلائی جائے۔ نتیش کمار نے کہا کہ ایسی سینکڑوں شکایتیں ملی ہيں کہ فساد زدگان کی زمین جائیداد پر قبضہ جما لیاگیا تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہيں کی کی گئي۔ وزیر اعلی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی حکومت کا یہ عزم ہے کہ بھاگل پور کے متاثرین کو انصاف دلایا جائے گرچہ اس میں کافی دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے دوبار مل کر یہ درخواست کرچکے ہیں کہ بھاگل پور کے متاثرین کو بھی اتنا ہی معاوضہ دیا جائے جتنا کہ دلی میں انیس سو چوراسی کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کو دیا گيا ہے۔ |
اسی بارے میں گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا بھاگلپور فسادات کی تحقیقات کا حکم24 February, 2006 | انڈیا بھاگلپور فسادات: چودہ مزید مجرم18 June, 2007 | انڈیا لوگائیں کا قتل عام سامنے کیسے آیا؟21 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||