BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 August, 2007, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمیشن سفارشات کے نفاذ کا مطالبہ

تیستا سیٹلواد
شہر کی کئی شخصیات تیستا سیٹلواد کی رہنمائی میں تحریک چلا رہے ہیں
انیس سو ترانوے بم دھماکے کے مجرموں کو سزا دیئے جانے کے بعد سماجی اور سیکولر تنظیموں نے ممبئی فسادات کے ملزمان کو بھی سزا دینے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔

شہر کی کئی سیکولر اور معزز شخصیات رضاکار تیستا سیٹلواد کی رہنمائی میں ’سب کے لیے انصاف‘ نامی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک کے تحت دستخطی مہم چلائی جا رہی ہے۔اب تک دو ہزار دو سو پچاس افراد کی دستخط جمع کر لی گئی ہیں۔

تیستا کا کہنا ہے کہ اب وہ کالجوں میں جا کر طلباء سے دستخط جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔

بیس اگست کو شہر کی کئی تنظیموں نے مل کر ایک احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ عدالت نے بم دھماکوں کے مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں دی ہیں تو پھر انہیں کیوں نہیں سزا دی جاتی جو ان دھماکوں کی وجہ بنے تھے۔ مشہور صحافی اور کالم نویس انیل دھارکر کے مطابق ’اگر رد عمل کو انصاف ملتا ہے اور عمل کو نہیں تو ایسے انصاف کو جانبدارانہ کہا جائے گا؟‘

سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ کا کہنا ہے کہ ’بدلہ کے جذبہ کے تحت نہیں بلکہ انصاف اور امن کی خاطر چاہتی ہوں کہ ان ملزمین کو سزا ملے جنہوں نے بے قصور اور معصوم انسانوں کی جانیں لیں۔‘

تحریک کے ممبر اداکار راہول بوس کے مطابق شہر کے نوجوان ایک لنگڑے لولے سماج میں پل کر بڑے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنا یہ خوف ختم کرنا ہو گا اور انہیں انصاف اس وقت ملے گا جب وہ اس لڑائی میں شریک ہوں گے۔

راہول بوس
اداکار راہول بوس بھی ’انصاف سب کے لیے‘ تحریک کے سرگرم رکن ہیں
اشتہار کی دنیا میں مشہور علیق پدمسی کے مطابق ’اگر ہمیں جسیکا لال قتل کیس میں انصاف مل سکتا ہے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں فسادات کے مظلومین کے لیے انصاف کیوں نہیں مل سکتا۔‘

فلمساز مہیش بھٹ اور سابق وزیر نسیم خان کی سربراہی میں ایک وفد نے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ سے سات اگست کو ملاقات کی۔ انہوں نے شیوسینا لیڈران اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ فسادات کی تحقیقات کرنے والے جسٹس سری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں انہیں قصوروار قرار دیا تھا۔ وزیر اعلی دیش مکھ نے اس کے بعد نو اگست کو ریاستی محکمہ قانون اور پولیس کمشنر ڈی این جادھو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کریں کہ آخر اب تک رپورٹ کے نفاذ میں تاخیر کیوں ہوئی؟

مہیش بھٹ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت جلد ہی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرے گی۔ نسیم خان اور بھٹ نے فسادات سے متعلق کیس کو تیز رفتار عدالت کے تحت چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت خصوصاً سونیا گاندھی نے فسادات کے ملزمان کے خلاف اب تک مہاراشٹر کی حکومت کی مبینہ لاپروائی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی وزیر اعلٰی نے ایڈوکیٹ جنرل سے دریافت کیاہے کہ آیا سن بانوے اور ترانوے کے ان فسادت کی فائل کو دوبارہ کھول کر ملزمان کے خلاف کیس درج کیا جا سکتا ہے؟

وزیر اعلٰی دیش مکھ نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جنرل سیکریٹری مارگریٹ الوا کو بھی اسی سلسلہ کی ایک رپورٹ پیش کی ہے۔

ایکشن کمیٹی برائے نفاذ سری کرشنا کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل عرضداشت پر چیف جسٹس بال کرشنن کی بینچ نے ریاستی حکومت سے ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور مبینہ لاپروائی برتنے کی وجہ پوچھی ہے اور اس کے انہیں عدالت میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

سابق جسٹس ہوسبیٹ سریش نے مہاراشٹر حکومت کا موازنہ گجرات حکومت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جس طرح گجرات میں لوگ انصاف کے لیے ترسے وہاں بھی حکومت اور پولیس کی نگرانی میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ اسی طرز پر مہاراشٹر میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا انہیں زندہ جلایا گیا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور اب وقت آگیا ہے کہ حکومت کو ان کی اس لاپروائی کا جواب دینا ہو گا اور خاطیوں کے خلاف کرروائی کرنی ہو گی۔‘

انیس سو بانوے چھ دسمبر کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نو سو افراد ہلاک اور کئی لاپتہ ہو گئے تھے۔ ان میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ حکومت نے ان فسادات کی تفتیش کے لیے ایک رکنی جج سری کرشنا کو نامزد کیا اور ان کی رپورٹ نےبال ٹھاکرے سمیت کئی شیوسینا لیڈران اور اکتیس پولیس اہلکار کو خطاوار قرار دیا تھا لیکن کسی بھی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس کے بر عکس ریاست میں جب شیوسینا اور بی جے پی برسر اقتدار آئیں تو اس وقت ان کی حکومت نے بال ٹھاکرے کے خلاف درج تمام کیس خارج کر دیے تھے۔

کسی بھی پولیس افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ اس وقت کے جوائنٹ پولیس کمشنر آر ڈی تیاگی کے خلاف کیس چلا لیکن ناکافی ثبوت کی وجہ سے انہیں بری کر دیا گیا اور حکومت آج تک ان کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل نہیں کر سکی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کو سزا ملنے کے بجائے انہیں ترقی دی گئی۔

ہری مسجد میں نہتے نمازیوں پر فائرنگ کے ملزم انسپکٹر نکھل کاپسے کے خلاف کیس کرنے کی ہمت پہلی مرتبہ ایک مظلوم فاروق ماپکر نے کی۔انہوں نے ہائی کورٹ میں اس فائرنگ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماپکر اس وقت مسجد میں تھے جب فائرنگ میں ایک گولی ماپکر کی پیٹھ میں لگی تھی۔ پولیس نے الٹا اس ہی کے خلاف کیس درج کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد