BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی: دہشت گردی مخالف فورم

مساجد
ڈاکٹر اسحق نے کہا کہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیاجا رہا ہے (فائل فوٹو)
ممبئی میں حج ہاؤس کے پیش امام غلام یحییٰ بخش کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ عملہ کے ذریعے گرفتاری پر ناراض ممبئی کے علماء کرام، آئمہ مساجد اور غیر سرکاری تنظیموں نے’دہشت گردی مخالف فورم‘ تشکیل دیا ہے۔

فورم کے کنوینر ڈاکٹر اسحق جمخانہ والا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کوم کو بتایا کہ فورم وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ہم مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہے ہیں تاکہ تکلیف کے وقت وہ متحد رہیں ۔یہ ہماری بقاء کی جنگ ہے ۔ماضی کی مثالیں سامنے ہیں کہ پولس نے جنہیں دہشت گرد کہہ کر گرفتار کیا لیکن بعد میں وہ عدالت سے باعزت بری ہوگئے اس لیے ہمیں شک ہے کہ مولانا کا کبھی کسی دہشت گرد تنظیم سےتعلق نہیں ہو سکتا اور پولیس نے گرفتاری سے قبل پوری طرح تفتیش نہیں کی ہو گی‘۔

فورم کے کنوینر جمخانہ والا اور ان کے ساتھ عملاء اور ائمہ مساجد پر مشتمل ایک وفد نے بدھ کی صبح ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل سے ملاقات کی اور حکومت اور پولیس کے مسلمانوں کے تیئں نامناسب رویہ پر غصہ کا اظہار کیا۔

الزام
 انسداد دہشت گردی کےعملے نے حج ہاؤس کے پیش امام کو لشکر طیبہ کے اراکین کی مبینہ طور پر مدد کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے

وفد نے دیگر باتوں کے ساتھ ہی کہا کہ مولانا کی گرفتاری کی تشہیر غلط انداز میں کی جارہی ہے۔ ٹی وی چینلز پر ان کا چہرہ دکھایا جا رہا ہے اور انہیں دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جب کہ ابھی عدالت میں یہ بات ثابت نہیں ہوئی ہے۔

اس وفد نے بدھ کی شام پولیس کمشنر اے این رائے سے بھی ملاقات کی اور اس کیس میں ان کا تعاون طلب کیا وفد نے مولانا کو کم از کم ضمانت پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمشنر نے وفد کو بتایا کہ یہ فیصلہ عدالت کے ہاتھ میں ہے البتہ مولانا کے کیس کی درست تحقیقات کا یقین دلایا۔

ڈاکٹر جمخانہ کا کہنا تھا کہ فورم مستقبل میں اس طرح کے کیس میں مظلوم کی مدد کرے گا اگر وہ غریب ہوئے تو ان کی قانونی اور مالی مدد کی جائے گی۔ ’ضرورت پڑی تو احتجاج کیا جائے گا تا کہ حکومت اور پولیس کو معلوم ہو کہ اس طرح ہماری قوم کے ساتھ وہ من مانی نہیں کر سکتے‘۔

معروف صحافی خلیل زاہد کا کہنا ہے کہ جب سے مولانا غلام یحیٰ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، شہر کے مسلمانوں کے درمیان تشویش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ مسلمانوں کو یقین ہے کہ جس طرح پولس مولانا کو لشکر طیبہ سے منسلک کر رہی ہے اس پر کسی کو یقین نہیں ہے اور اس کی وجہ بھی ہے کیونکہ ماضی کی ایسی کئی مثالیں ہیں ایسے الزامات پولیس ثابت نہیں کر سکی۔

انہوں نے ڈاکٹر عبدالمتین کی مثال دی جنہیں بم دھماکہ کے الزام میں پولیس نے گرفتار کیا لیکن بعد میں عدالت سے انہیں رہائی مل گئی۔

خلیل زاہد نے محمد افروز کی بھی مثال دی کہ جب ملک میں دہشت گردی مخالف قانون ٹاڈا کے بعد پوٹا نافذ کیا گیا تو سب سے پہلے مہاراشٹر حکومت نے محمد افروز کو پوٹا کے تحت گرفتار کر لیا لیکن وہ انہیں مجرم ثابت نہیں کر سکی اس لیے انہیں رہا کرنا پڑا۔

حکومت کے رویہ سے ناخوش صحافی کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگا دیا ہے جس سے سماج میں مسلمانوں کی امیج خراب ہو رہی ہے اور فورم مسلمانوں کے حق کی لڑائی کے ساتھ غیر مسلمانوں کے ساتھ میٹنگ اور پروگرام کر کے یہ پیغام دینے کی کوشش کریں کہ مسلمان امن پسند ہیں۔

علماء کاؤنسل کے مولانا اظہر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے مولانا کی گرفتاری پر افسوس ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں پیش امام کا ایک مقام ہوتا ہے۔

ایک رائے
 حکومت نے مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگا دیا ہے جس سے سماج میں مسلمانوں کا امیج خراب ہو رہا ہے

مولانا کی گرفتاری سے قبل پولیس کو ان کے خلاف پختہ ثبوت حاصل کرنے چاہیئے تھے۔ مولانا 8x8 رقبہ کے مکان میں رہتے ہیں اور گھر کی حالت بہت خراب ہے جس سے کوئی بھی ان کی غربت کا اندازہ باآسانی لگا سکتا ہے۔

انسداد دہشت گردی عملہ نے حج ہاؤس کے پیش امام کو لشکر طیبہ کے اراکین کی مبینہ طور پر مدد کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔

پولیس دعوی کر رہی ہے کہ اس کے پاس مولانا کے خلاف کافی ثبوت ہیں جبکہ شہر کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح کی غربت کی زندگی مولانا جی رہے ہیں اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ انہیں کسی تنظیم سے مدد مل رہی ہوں اور وہ اس تنظیم کے لیے کام کر رہے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد