’راہول کے بیان پر حیرت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی کی جانب سے پاکستان توڑنے کے بارے میں بیان کوئی حیران کن بات نہیں اور نہ ہی اس میں کچھ نیا ہے۔ پاکستان کے دفترِخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا:’ہم سب جانتے ہیں کہ اُنیس سو اکہتر میں کیا ہوا اور کس نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی‘۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ گاندھی خاندان کے ایک فرد کی جانب سے یہ اعتراف سامنے آیا ہے کہ اُن کا خاندان پاکستان کو دو حصّوں میں تقیسم کرنے میں شامل تھا۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا براسر اقتدار خاندان کی جانب سے اس وقت ایسے بیان سے دونوں ملکوں میں جاری بات چیت متاثر ہو گی تو دفترخارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا:’بہت سے لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کو بہت زیادہ ترجیح دی جائے۔ راہول نے جو کہا وہ ہم سب جانتے ہیں۔ آج کا پاکستان بہت مختلف ہے۔ آج پاکستان ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس جنگ میں شریک ممالک کے درمیان باہمی اعتماد نہ ہو۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ توقع ہے کہ بین الاقوامی برادری ناصرف پاکستان کے کردار کو سرہائے بلکہ وہ اپنی ناکامیوں کوتسلیم بھی کرے اور اپنی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان پر الزامات نہ لگائے۔ چند دن پہلے صدر مشرف نے نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس میں اکیس ممالک کے اعلیٰ فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کو اُن کی ایمانداری پر شک نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ یا آئی ایس آئی جھوٹ بول رہے ہیں تو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ممالک سےالگ ہو جانا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان توڑنے میں میرے خاندان کاہاتھ‘15 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||