جنسی تعلیم، ضرورت اور مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بدلتی ہوئی قدروں کے لحاظ سے بچوں کو جنسی معلومات فراہم کرنے کے لیے سکولوں میں سیکس ایجوکیشن کا پروگرام شروع کیا گيا تھا لیکن حال ہی میں بعض ریاستوں نے سیکس ایجوکیشن پر پابندی عائد کردی ہے۔ سکولوں میں جنسی تعلیم کامسئلہ شروع ہی سے موضوع بحث رہا ہے تاہم اس پابندی سے اس بحث میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔ بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جنسی تعلیم بہت ضروری ہے لیکن اس کے مخالفین کے مطابق اس سے بچوں کے ذہن پر منفی اثر پڑتا ہے اور’ یہ کلچر و روایت کے خلاف ہے۔‘ مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور کرناٹک کی حکومتوں نے یہ کہہ کر سیکس ایجوکیشن پر پابندی لگائی ہے کہ اس کے متعلق جو نصاب ہے وہ’ غیر شائستہ اور بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والا ہے۔‘ دلی میں ’سپرنگ ڈیل‘ سکول میں طلباء کوجنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ سکول کی پرنسپل انیتا ملاّ واٹل کہتی ہیں کہ وقت کے ساتھ چلنا بہت ضروری ہے۔’ کلچر اور روایت کے نام پر بنیادی مسائل سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی، انٹرنیٹ، وی سی ڈی اور فحش لٹریچر تک بچوں کی رسائی اب بہت آسان ہے، انہیں بہت کچھ معلوم ہے لیکن سب ادھورا ہے اس لیے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ انہیں صحیح علم ہو۔‘ محترمہ واٹل کے مطابق جنسی تعلیم کا مطلب صرف سیکس نہیں ہے۔’ لڑکوں اور لڑکیوں کو آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت، جذبات کی قدر، ان کی نفسیات کو سمجھنا، ان کا برتاؤ اور پھر یہ کہ کس کی کیا حدود ہیں، یہ سب ایک دوسرے سے منسلک چیزیں جوجنسی تعلیم کا اہم حصہ ہیں۔‘ دسویں کلاس کی ایک طالبہ ہرشتہ کہتی ہیں: ’ اس عمر میں سیکس کے بارے میں ہمارے پاس ٹوٹی پھوٹی جانکاری ہوتی ہے جبکہ جسمانی تبدیلیاں تیزی سے ہورہی ہوتی ہیں، جب ٹیچر سمجھاتی ہیں تو سب کلیئر ہوجاتا ہے، گھر میں ماں سے ہم اتنا کھل کر بات نہیں کر پاتے ۔‘ نویں کلاس کے ہمانشو کہتے ہیں:’ سیکس تو ہماری زندگی کا اہم پہلو ہے، آج کل بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی عام بات ہے اور اس کے شکار وہ زیادہ ہوتے ہیں جنہیں اس کی تعلیم نہیں ملتی، ہمیں تو اب بہت اعتماد ہے اور ہم چاہتے ہیں یہ بنیادی باتیں سب کو پتہ ہونی چاہئیں۔‘ بارہویں کلاس کی طالبہ رشیکا کہتی ہیں:’میں سیکس کے بارے میں تذبذب میں رہتی تھی، لفظ’ماسٹربیشن‘ بہت بار پڑھا تھا پھر بھی کچھ پتہ نہیں تھا لیکن سکول میں ورکشاپ کے بعد اپنی سیکشوالٹی کے حوالے سے بہت پر اعتماد ہوں اور اس کے متعلق میں اچھا براجان گئی ہوں ۔‘
سیکس ایجوکیشن کے حوالے سے لوگوں میں شکوک و شبہات تو ضرور ہیں لیکن بہت سے والدین اس کی حمایت کرتے ہیں۔وندنا کہتی ہیں:’ پہلی بار جب مجھے پتہ چلا تو یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ میری بچی کو وہ سب بتایا جاتا ہے جو مجھے شادی کے بعد پتہ چلا تھا، مجھے اچھا نہیں لگا تھا لیکن اب اس کے نتائج سے بہت خوش ہوں۔ میری بیٹی اب پر اعتماد ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ ہوشیار۔‘ آرتی کہتی ہیں: ’مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس جانکاری کا بچے تجربہ نہ کرنے لگیں، اگر یہ ضروری ہی ہے تو بھی اس میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔‘ صوفیہ احمد کہتی ہیں: ’میں نے تو اپنی بیٹی سے بہت کچھ سیکھا ہے، اخبارات، میگزین اور جریدوں میں اس کے بارے میں پڑھنے سے کنفیوژن ہوتا ہے، اچھا یہی ہے کہ اس دور میں جنسی تعلیم کے ماہرین بچوں کو اس بارے میں بتائیں۔‘ حال ہی میں مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے کہا تھا کہ ملک میں ایڈز تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے سیکس ایجوکیشن بہت ضروری ہے لیکن بقول ان کے’ اس کی زبان میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘ تنوی ایّیر سکول میں جنسی تعلیم کی استانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’جنسی تعلیم میں سب سے بڑا مسئلہ اصطلاحات کا ہے، ہم ناک کو ناک اور کان کو کان کہیں گے لیکن جسم کے کئی اعضاء کا نام لینا گناہ تصور کیا جاتا ہے، بہتوں کو بارہویں کلاس تک اپنے جسم کے متعلق بہت کچھ پتہ نہیں ہوتا۔‘ ساکشی نامی ایک غیر سرکاری تنظیم جنسی بیداری کے لیے سکولوں میں ورکشاپ کرتی ہے۔ اس کی ڈائریکٹر نینا کپور کہتی ہیں کہ سیکس ایجوکیشن کے لیے اساتذہ کو بھی خاص ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔’ایڈز کے نام پر بر صغیر میں سیکس کی منفی تصویر زیادہ پیش کی جاتی ہے، اس میں وہ لوگ بھی لگے ہیں جنہیں اس کے متعلق صحیح علم نہیں ہے اور نتیجتاً لوگوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔‘ نینا کے مطابق ہندوستان میں عام طور پر لوگ سیکس کے نام سے ڈرتےہیں۔’ عام تصور یہ ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اور اس کی تعلیم سے بچوں کی اخلاقیات پر برا اثر پڑے گا۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ صحیح جانکاری نہ ہونے کے سبب ہمارے سماج میں بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں جن سے نظریں چرانے کی ہمیں عادت پڑ گئی ہے۔‘ ہندوستان نے بھلے ہی کاما سوترا جیسی نادر کتاب سے پوری دینا کو روشناس کرایا ہو لیکن اکیسویں صدی میں بھی سیکس اور جنسیات پر بات کرنا تو درکنار یہ الفاظ نازیبا اور غیر شائستہ تصور کیے جاتے ہیں۔ سیکس ایجوکیشن پر پابندی سے پورے ملک میں جنسی معلومات فراہم کرنے والی مرکزی حکومت کی کوششوں کو دھچکا ضرور لگا ہے لیکن اس سے اس موضوع پر بحث ایک مثبت پہلو ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔ | اسی بارے میں طلباء میں جنسی تعلیم میں دلچسپی 18 May, 2006 | انڈیا کیااخبار صرف بالغوں کیلیے ہیں؟ 18 August, 2005 | انڈیا ایران: اسقاطِ حمل کا بل منظور12 April, 2005 | آس پاس برطانیہ: عمر سے پہلے جنسی تعلق14 August, 2006 | آس پاس امریکہ: سرکاری فنڈ سے مذہبی پرچار17 May, 2005 | آس پاس موسمی خطرات، احتیاط کی ضرورت17 March, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||