سیتو سندرم اور ہندوستانی سیکولرزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک بحری جہازوں کے آنے جانے کے لیے سمندر میں ایک چٹانی سلسلے کو کاٹ کر راستہ بنانے کا معاملہ حکومت کے گلے میں ہڈی بن گیا ہے۔ بی جے پی سمیت تمام ہندو جماعتیں چٹانوں کے توڑنے کی مخالفت کر رہی تھیں۔ انہیں بالآخر ایک اچھا جذباتی موضوع ہاتھ لگ گیاہے۔ ایک طرف کمیونسٹ پارٹی جوہری تنازع پر حکومت گرانے کی تیاری کر رہی ہے تو دوسری جانب سیتو سندرم کے معاملے میں کانگریس شدید دباؤ میں ہے۔ ہندو تنظیمیں کہہ رہی ہیں کہ سری لنکا اور ہندوستان کے درمیان میں جو چٹانی سلسلہ ہے وہ بھگوان رام کی فوج نے تعمیر کیا تھا۔ اسے توڑنے کر راستہ بنانے کا معاملہ عدالت میں ہے لیکن ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ عقیدے کا معاملہ ہے اور یہ عدالت اور بحث سے اوپر ہے۔ منموہن سنگھ حکومت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اس پروجیکٹ کو ترک کردے گی۔ پارلیمانی اجلاس ہنگامے کی نذر اس بار پارلیمنٹ کا مانسونی اجلاس کافی ہنگامہ خیز رہا۔ اجلاس کے پہلے ہی روز سے جوہری معاہدے پر ہنگامہ شروع ہوگیا اور آخری دن تک اس کا شور سنائی دیتا رہا۔ ہنگامہ آرائی، بائیکاٹ اور التواء کے سبب بالآخر سپیکر نے لوک سبھا کا اجلاس مقررہ وقت سے کئی روز پہلے ہی ختم کر دیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ہی ایوانوں میں مقررہ وقت کے نصف سے بھی کم وقت میں کام ہوسکا۔ کئی بل ہنگامہ آرائی اور التواء کے سبب بغیر کسی بحث کے ہی منظور کرنے پڑے۔ صورتحال اتنی خراب ہوئی ہے کہ کئی ارکان نے ’نو ورک، نو پے‘ کا طریقۂ کار اختیار کرنے کی سفارش کی ہے۔ سیاسی جماعتیں تشویش ضرور ظاہر کرتی ہیں لیکن جب پارلیمانی کارروائی کی بات آتی ہے تو ہر بار تقریباً یہی صورتحال ہوتی ہے۔ سیاچن مہم جوئیوں کے لیے کھلا ہندوستان نے سیاچن گلیشیئر کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ ہندوستان نے دنیا کے سب سے اونچے برفیلے جنگی محاذ پر اپنے مکمل کنٹرول کا اظہار کے لیے کیا ہے۔
اس وقت فوج کی ایک بڑی ٹیم اس علاقے میں کوہ پمیائی کے مہم پر ہے۔ ایک اور ٹیم 6 ستمبر کو رائمو پیک سر کرنے نکلی ہے۔ یہ خطہ کچھ برس پہلے تک پاکستان کے کنٹرول میں تھا۔ وزارتِ دفاع ہیکنگ کی زد میں چند دنوں قبل سویڈین کے ایک سائیبر ایکسپرٹ نے وزاراتِ دفاع کے اعلیٰ اہلکاروں اور ہندوستان کے مختلف سفارتخانوں کی ای میل کے پاس ورڈز تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ سویڈش شہری نے باقاعدہ یہ پاسورڈز انٹرنیٹ پر عام کر دیے تھے۔ اب وزارتِ دفاع اور مواصلات کی وزارات کے ماہرین اہم مواصلاتی نظام کی سلامتی کے بہتر انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت نے سائبر سیکورٹی کے لیے اضافی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ دہشت گردی کے نئے خطرات گزشتہ دنوں ممبئی پولیس نے بم کے ماہرین کے شعبے کے لیے نئے ساز و سامان خریدنے کا ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس میں ’لیٹر بم‘ کا پتہ لگانے والے آلات بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بم سکواڈ کے پاس لیٹر بم کا پتہ دینے والے آلات نہیں ہیں اور وہ موجودہ حالات میں پوری طرح تیار رہنا چاہتے ہیں۔ لیٹر بم کو پوسٹ کا پارسل بم بھی کہا جاتا ہے اور یہ لفافے میں بھیجا جاتا ہے۔ اس بم سے لفافہ کھولنے والے کی موت ہو سکتی ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ دہشت گرد اس طرح کے بم کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مودی کا اعتماد اور مخالفین کا اجتماع گجرات میں نومبر یا دسبمر میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ بعض جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں نریندر مودی کے انتخابی ستارے ابھی بھی عروج پر ہیں۔ مودی کی مخالفت ان کی پارٹی کے اندر بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بی جے پی کے باغی اور حزب اختلاف کانگریس پہلی بار ایک ساتھ مودی کی مخالفت میں ایک بڑی ریلی میں آئے۔ باغیوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مودی کواقتدار سے ہٹائیں۔ کانگریس نے بھی ٹیلی ویژن پر اشتہارات کے ساتھ مودی کے خلاف انتخابی لڑائی کا اعلان کر دیا ہے۔ گجرات کے انتخابات اس بار کافی دلچسپ ہونے کی امید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||