بالی وڈ ڈائری: پریشان سنجو، چھوٹے عامر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غمزدہ بالی وڈ ڈائری لکھنے بیٹھے تو سنجو بابا (سنجے دت) کا چہرہ سامنے آگیا۔ عدالت میں وہ مجرموں کے لیے مختص بینچ پر بیٹھے تھے جو صرف مجھ سے دو گز کی دوری پر تھی۔ ان کے اور میرے درمیان ایک پولیس کانسٹبل بیٹھا تھا۔ میں نے ان کی جانب دیکھا تو ہلکا سا ہاتھ ہلا کر مسکرائے۔ اشارہ کیا کہ میرے لیے دعا کرو۔ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جب بھی صحافیوں سے ملتے تو صرف یہی کہتے :’میرے لیے دعا کیجئے‘۔ ہم کیا ہندوستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے کروڑوں پرستار ان کے لیے دعا کر رہے تھے۔ عدالت کی کارروائی شروع ہوئی اور عدالت نے ان کے ایک ساتھی روسی ملا کو اچھے برتاؤ کے لیے بنائے گئے قانون پروبیشن آف اوفینڈرز ایکٹ کے تحت جب انہیں رہا کرنے کاحکم صادر کیا تو سنجو کے چہرے پر ہلکی سی امید کی کرن نظر آئی۔ میں نے انہیں اشارے سے کہا اب آپ بھی چھوٹ جاؤ گے۔ سنجو مطمئن نظر آنے لگے۔ انہوں نے اوپر ہاتھ کر کے اشارہ کیا۔ جیسے خدا کا شکر ادا کر رہے ہوں۔ منہ میں گٹکا تھا جسے وہ دھیرے دھیرے چبا رہے تھے۔ شرٹ کے بٹن کھلے تھے اور پنکھے کی ہوا بھی تیز تھی لیکن چہرے پر پسینہ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کے بعد جج نے سنجو کے جرم گنوانے شروع کیے۔ جج کے اس بیان سے سنجو کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ وہ بار بار پہلو بدلنے لگے۔ جج نام لیتے تو وہ اٹھ کھڑے ہوتے۔ جج نے ان کی اس پریشانی کو محسوس کر لیا اور انہیں بیٹھنے کے لیے کہا۔ سب صحافیوں کے ساتھ میں بھی جج کے فیصلے کو نوٹ کرنے لگی۔ جج نے سزا سنائی چھ سال قید بامشقت اور پچیس ہزار روپیہ جرمانہ۔ سنجو حکم سن کر سکتے میں آگئے۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کٹہرے میں کھڑے ہو کر انہوں نے ہاتھ جوڑ کر جج سے کہا:’میں اس سزا کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا مجھے برائے مہربانی کچھ دن کی مہلت دے دیں۔ مجھے اپنی بیٹی سے بات کرنی ہے وہ امریکہ میں ہے۔ جج صاحب چودہ برس پہلے مجھ سے صرف ایک غلطی ہوئی تھی۔۔۔۔میرے پاس پولیس کانسٹبل نہ آئیں انہیں کہیے کہ وہ مجھ سے دور رہیں مجھے گھیرے میں نہ لیں۔۔۔۔میرے ساتھی یوسف نل والا کو میرے ساتھ ایک ہی سیل میں رکھیے۔۔۔۔۔سنجو بابا بولتے رہے۔ ان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے، آواز تھرا رہی تھی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھیڑ میں کھڑی میں بھی انہیں چپ چاپ سنتی رہی۔ سلو نے پارٹی منسوخ کردی
گودریج کمپنی کی مالک پرمیشور گودریج نے فلم ’گاندھی مائی فادر‘ کے لیے دی گئی پارٹی منسوخ کر دی اور روی چوپڑہ نے فلم ’نیا دور‘ کے لیے رکھا پریمیئر کینسل کر دیا۔ اداکار سنیل شیٹی سمیت سنجو کے دوستوں نے فیصلے کے خلاف ایک مہم چلانے کا ارادہ کیا تھا۔ کنگ خان (شاہ رخ خان) نے انٹرنیٹ پر سنجو کے لیے ایک سائیٹ بنانے کا ارادہ کیا تھا لیکن سنجو کی ایم پی بہن پریہ دت نے سب کو یہ سب کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ ان کی ہمدردی کے لیے اٹھایا گیا یہ قدم خود سنجو کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ پریشان سنجو سنا ہے سنجو بابا جیل میں قیدیوں کے لیے کھانا پکانے میں مدد کریں گے اور ساتھ ہی جیل میں رہ کر گاندھی کے اصولوں پر مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے کتابیں پڑھیں گے۔ ’چھوٹے‘ عامر
اداکار کی گائے اور بھینسیں ملکہ لیلی بنیں گی
چی چی کا منتر روزا کی روزی
کے کے کی چھلانگ ایشا کا زوردار تھپڑ
بے بی اگر ہاتھ اتنا ہی مضبوط ہے تو ہمیں تو لگتا ہے کہ اب آپ کے سامنے کام کرنے والا ہر ہیرو پہلے فلمساز سے یہی سوال کرے گا ’اس فلم میں ایشا کے تھپڑ مارنے کا تو سین نہیں ہے۔اگر ہے تو پلیز اسے نکال دیجیے‘۔ |
اسی بارے میں بالی وڈ ستاروں کا مشعل مورچہ17 July, 2006 | انڈیا بالی وڈ ڈائری 04 December, 2006 | انڈیا بالی وڈ ڈائری: خان کی لنگی، رتیک کی چاہت18 March, 2007 | انڈیا بالی وڈ ڈائری: شکیرا کا بخار، کنگ کا اعزاز25 March, 2007 | انڈیا بالی وڈ ڈائری: ایش کی شادی اور شاہ کی دیوانی 09 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||