دلی ڈائری: ’کتے کوریا بھیجنے کی تجویز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات میں اس سال کے اواخر میں انتخابات ہونے والے ہیں اور پارٹی میں وزیراعلٰی نریندر مودی کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مخالفت کے سبب مودی کو اپنے کئی ارکان اسمبلی کو معطل کرنا پڑا ہے۔ لیکن سب سے شدید حملہ ریاستی بی جے پی کے سنئیر رہنما کیشو بھائی پٹیل کی طرف سے ہوا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر کیشو بھائی نے کہا کہ ’گجرات کو بھی موجودہ حکمرانوں کے شکجنے سے آزادی کی ضرورت ہے‘۔ بی جے پی کے مقامی لیڈر اور ارکان اسمبلی و پارلمیان مودی کےطریقہ کار سے برہم ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ مسٹر مودی سے ملاقات کرنا کوئی آسان کام نہيں ہے اور کئی بار گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ جبکہ صنعت کار اور سرمایہ دار جس وقت چاہیں مودی سے ملاقات کرسکتے ہيں۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت وزیر اعلٰی مودی اور ان کے مخالفین کے درمیان مصالحت کے لیے کوشاں ہيں، لیکن صورت حال مسلسل بگڑتی جارہی ہے۔ کتے کوریا بھیجنے کی تجویز دلی میں آوارہ کتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور وہ میونسپل کارپوریشن کے لیے سر درد بنے ہوئے ہیں۔ اس کاکوئی حل ڈھونڈنے کے لیے ایک اسٹینڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔گزشتہ دنوں کمیٹی کی میٹنگ میں ایک رکن نے کہا کہ سننے میں آیا ہےکہ کوریائی کتے کا گوشت شوق سے کھاتے ہيں اس لیے دلی کے سارے آورہ کتے کوریا بھیج دئیے جائیں۔
ایک رکن کی تجويز تھی کہ کتوں کو ایسی کوئی دوا کھلائی جائے جس سے وہ سارے دن سوتے رہیں۔ ایک کارپوریٹر نے یہ مشوہ بھی دیا کہ دلی کے سارے کتے لے جاکر دوسری ریاستوں میں چھوڑ دیے جائیں۔ ان تجاويز سے اندازہ لگانا مشکل نہيں ہونا چاہیے کہ فی الوقت میونسپل کارپوریشن کے پاس آوارہ کتوں کے مسئلے کاکوئی حل ہے یا نہيں۔ اسکائی مارشل چھیڑ خانی کے لیے گرفتار گیارہ ستمبر کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد ہندوستان میں بھی مسلح کمانڈوز سادے لباس میں مسافر جہازوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق گزشتہ جمعہ کو جب ایک طیارہ سری نگر سے دلی کے لیے پرواز کرنے ہی والا تھا کہ اس وقت اسکائی مارشل نے طیارہ کے پچھلے حصے میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی سے مبنیہ طور پر چھیڑ خانی کی۔ بات جب بڑھتی ہی گئی تو سارے مسافر احتجاج میں کھڑے ہوگئے۔ اینٹی ہائی جیکنگ شعبے کے ایک اہلکار کے مطابق مسافر اس قدر بھڑکے ہوئے تھے کہ اگر وقت پر مداخلت نہ کی گئی ہوتی تو اسے بچانا مشکل ہو جاتا۔ فوجیوں کی خودکشی، افسر ذمے دار
محکمہ دفاع سے متعلق پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے فوجیوں کی خودکشی روکنے کے لیے اب تک کے اقدامات کو ناکافی کہا ہے اور وزارت دفاع پر نکتہ چینی کی ہے کہ ان اقدامات کو ابھی تک نافذ بھی نہيں کیا گیا ہے۔گزشتہ پانچ برسوں میں ہر برس اوسط سو فوجیوں نے خودکشی کی ہے۔ اس برس اب تک اڑتیس فوجی یہ انتہائی قدم اٹھا چکے ہیں۔ بال ٹھاکرے پر جرمانہ مسٹر ٹھاکرے کے خلاف ایک سیاسی کارکن نے شمالی ہندوستان کے باشندوں کے خلاف ایک اخبار میں ایک اشتعال انگیز مضمون لکھنے پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ مسٹر ٹھاکرے گزشتہ تین بار کسی اطلاع کے بغیر عدالت میں حاضر نہيں ہوئے۔ عدالت نے اس سے پہلے انہيں تنبیہ کی تھی۔ لیکن وہ گزشتہ ہفتے بھی کسی اطلاع کے بغیر غیر حاضر رہے تو عدالت نے ان کے اوپر پانچ سو روپئے کا جرمانہ کردیا ہے۔ واہ یہ ٹیچر تعلیم میں بد عنوانی کے ایک مطالعے میں یونیسکو نے بتایا کہ بہار میں ہر پانچ اسکول ٹیچرز میں سے دو ٹیچر غیر حاضر رہتے ہیں۔ جبکہ اترپردیش میں ٹیچروں کی غیر حاضری 33 فی صد ہے۔ اس مطالعے میں بتایا گيا ہےکہ ٹیچروں کی غیر حاضری سے بائیس فیصد سے زيادہ تعلیم فنڈ ضائع ہوجاتا ہے۔ اس مطالعہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امتحانات میں نقل اور رشوت دے کر داخلے کے ٹیسٹ پاس کرنا ہندوستان کے تعلیم نظام میں بدعنوانی کے اہم پہلو ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||